مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 58 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 58

58 نہیں رہتی۔جب یہ مان لیا جائے کہ علاوہ صانع کے روح و مادہ مع اپنے خواص کے قدیم ہیں تو اتصال وانفصال بھی منجملہ خواص کے ہے۔پس ترکیب کے لئے حاجت صانع کی نہیں؟ (۲) جو چیز قدیم ہو اس کی ذات ہی اس کی علت ہے اور جس کی ذات اس کے وجود کی علت ہو اُس میں کوئی نقص نہیں ہو سکتا کیونکہ وجود نقص علت قاصرہ کا مستلزم ہے اور قدیم میں علت قاصرہ ناممکن ہے۔(۳) یہ کہ استحقاق صانع کے لئے روح و مادہ پر تصرف ثابت نہیں۔کیونکہ یہ دونوں اپنے وجود اور خواص میں اس کے محتاج نہیں تو یہ اُن پر تصرف کیوں کرے گا۔کیونکہ استحقاق تصرف کا باعث ملک ہے اور ملک یا خلق سے یا ورثہ سے یا بیچ سے یا ہبہ سے یا کسی پر غلبہ پانے سے پیدا ہوتا ہے۔خلق کا عدم معروض ہے اور ور نہ اور بیچ اور ہبہ کی شقوق جانب واجب ہیں۔خود ساقط ہیں۔باقی رہ گیا غلبہ سے مالک بن جانا ،سو اس سے لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ خدا اور انسان کا مفہوم ایک ہے۔جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر چڑھائی کر کے ایک ملک چھین کر اپنی ملکیت میں کرے۔اسی طرح خدا بھی کرتا ہے۔حالانکہ انسان اس کے صفات میں قطعاً کسی طرح بھی شریک نہیں۔پس اس طریق سے کسی چیز کو اپنی ملک میں لانا گویا انسان کے برابر خدا کو ٹھہرانا ہے اور وہ محال ہے۔(۴) اگر ایسا ہی مان لیا جائے تو علم ذات باری تعالیٰ ناقص رہے گا۔اگر خالق کل اسے تسلیم نہ کیا جائے اس لئے کہ کسی چیز کی خلق سے وہ اسی لئے قاصر ہوگا کہ اسے اس چیز کی خلقی ترکیب معلوم نہیں اور جس چیز کا وہ خالق نہیں اس کے اصلاح و فساد سے بھی وہ باہر نہیں ہوسکتا۔علی الخصوص جب علم ذات باری کو نظری مانا جائے پھر تو ذات باری کو ہر روح اور ذرہ مادہ کی شاگردی کرنی پڑے گی۔(۵) اگر باعث بعض اشیاء کے عدم خلق کا عدم قدرت ہے تو قادر مطلق سرب شکتیمان صانع نہ رہا۔اس پر یہ سوال کہ وہ اپنی مثل پیدا نہیں کر سکتا صحیح نہیں ہے۔اس لئے کہ مخلوق کو خالق کی مثل قرار دینا محال ہے اور صانع کا اپنے آپ کو فتا کرنا۔علاوہ ازیں اور عیوب میں مبتلا کرنا قدرت نہیں کہلا سکتا بلکہ خلاف قدرت ہے۔(1) روح اور مخلوق کے عدم مخلوق فرض کرنے سے ان کو بطش شدید کرنا ظلم ہے کیونکہ جس کو استحقاق ہے ہی نہیں اس کو استحقاق بطش کیسے حاصل ہوا۔(۷) سوائے واجب کے اور کوئی قدیم نہیں اور ماسوائے اُس کی قدرت سے وجود پذیر