مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 911
911 هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ( ترمذی جلد ۲ صفحہ ۴۶ امجتبائی۔نیز مطبع احمدی ترندی جلد ۲ صفحه ۶۳ او بخاری جلد ۲ صفحه ۱۴۶مطبوعہ مجتبائی) یعنی حضرت ابراہیم نے صرف تین جھوٹ بولے۔۲۔حضرت آدم علیہ السلام :- حضرت آدم علیہ السلام نے شرک کیا۔( تفسیر محمدی زیر آیت قلنا أنهما الاعراف : ۱۹۱ - جلالين ومعالم التنزیل زیر آیت الاعراف : ١٩٠) جب حوا علیھا السلام حاملہ ہوئیں تو ابلیس ایک نامعلوم صورت پر حوا علیھا السلام کے سامنے ظاہر ہوا اور بولا کہ تیرے پیٹ میں کیا چیز ہے جو علیھا السلام بولیں کہ مجھے نہیں معلوم۔ابلیس نے کہا کہ شاید منہ یا کان یا نتھنے سے نکلے یا تیرا پیٹ پھاڑ کر نکالیں۔حضرت حوا علیھا السلام ڈریں اور یہ ماجرا حضرت آدم علیہ السلام سے بیان کیا۔حضرت آدم علیہ السلام بھی خوفناک ہوئے۔پھر ابلیس دوسری صورت پر ان کے سامنے ظاہر ہوا اور ان کے رنج کا سبب پوچھا۔ان دونوں نے حال بیان کیا۔ابلیس بولا کہ رنج نہ کرو۔میں اسم اعظم جانتا ہوں اور مستجاب الدعوات ہوں۔خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس حمل کو تمہارے مثل خوبصورت اور درست خلقت کرے اور آسانی کے ساتھ یہ تیرے پیٹ سے نکلے۔بشر طیکہ اس کا نام عبد الحارث رکھو۔اور ابلیس کا نام ملائکہ میں حارث تھا۔حوا علیھا السلام نے اس کا یہ فریب مان لیا۔پھر جب عطا کیا خدا نے ان دونوں کو فرزند صالح جسم اور تندرست۔۔۔۔اور حوا نے واسطے خدا کے ایک شرکت والا اور نام میں شریک کیا عبادت میں نہیں۔یعنی عبد اللہ کے بدلے عبدالحارث نام رکھا۔“ ۳۔حضرت یوسف علیہ السلام :۔( تفسیر قادری موسومه به تفسیر حسینی زیر آیت الاعراف : ۱۹۰ مترجم اردو) وَلَقَدْ هَمَّتْ به قَصَدَتْ مُخَالِطَتَهُ وَهَمَّ بِهَا قَصَدَ مُخَالِطَتَهَا لِمَيْلِ الطَّبْعِ وَالشَّهْوَةِ الْغَيْرِ الْاخْتِيَارِي “ (جامع البيان زير آيت وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا يوسف : ۲۴ و جلالين مع کمالین زیر آیت وَلَقَد هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا سورة يوسف) کہ اس عورت ( زلیخا) نے حضرت یوسف سے زنا کا ارادہ کیا۔اور حضرت یوسف نے بھی