مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 894
894 اے زرتو خدا نیست ولیکن بخدا ستار العیوب و قاضی الحاجاتی ان کی بلا سے قوم جہنم میں جائے یا کسی گھاٹی میں گرے انہیں اپنے حلوے مانڈے سے کام ہے۔“ ( سیاست ۱۵ ستمبر ۱۹۳۱ صفحه ۳) احراری اور ان کا امیر شریعت:۔اس ۴۔احرار تبلیغ کے وسائل اختیار نہیں کرتے جو اسوہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے اور قرآن الحکیم کی تعلیم کے مطابق ہمیں اختیار کرنا چاہیے بلکہ قادیا نوں کو اور نہ صرف ان کو بلکہ ہر شخص کو جو دیا نتداری کے ساتھ ان سے اختلاف رکھتا ہے غلیظ گالیاں دیتے ہیں۔اس لحاظ سے بدترین مجرم وہ شخص ہے جس کو یہ لوگ امیر شریعت“ کہتے ہیں۔سید عطاء اللہ شاہ احراری ( ان کو بخاری کہنا سادات بخارا کی توہین ہے ) عامیانہ مذاق کا آدمی ہے وہ بازاری گالیاں دینے میں مشاق ہے اسی لئے عام آدمی ان کی تقریر کو گھنٹوں اسی طرح ذوق شوق سے سنتے ہیں۔جس طرح وہ میراثیوں اور ڈوموں کی گندی کہانیوں کو سنتے رہے ہیں۔عطاء اللہ احراری کا وجود علماء کی جماعت کے لئے رسوا کرنے والا ہے۔(سیاست ۱۸ جون ۱۹۳۵ء صفحه۳) ۵۔مولوی ظفر علی آف زمیندار بزبان امیر شریعت احرار کہتے ہیں:۔اک طفل پری رو کی شریعت فگنی نے کل رات نکالا میرے تقویٰ کا دوالا میں دین کا پتلا ہوں وہ دنیا کی ہے مورت اس شوخ کے نخرے میں مرا گرم مسالا (لاہور۔۲۶ دسمبر ۱۹۳۶ء و چمنستان یعنی مجموعہ کلام مولوی ظفر علی خاں صفحہ ۹۶۔مطبوعہ پبلشرز یونائٹیڈ لاہور ۱۹۴۴ء بار اول ) مجلس احرار انگریز کا خود کاشتہ پودا:۔۶۔مولوی ظفر علی خاں لکھتے ہیں :۔آج مسجد شہید گنج کے مسئلہ میں احرار کی غلط روش پر دوسرے مسلمانوں کی طرف سے اعتراض ہونے پر انگریزی حکومت احرار کی سپر بن رہی ہے اور حکومت کے اعلیٰ افسر حکم دیتے ہیں کہ احرار کے جلسوں میں کوئی گڑ بڑ پیدا نہ کی جائے تو کیا اس بد یہی الانتاج منطقی شکل سے یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ مجلس احرار حکومت کا خود کاشتہ پودا ہے؟ جس کی آبیاری کرنا اور جسے صرصر حوادث سے بچانا حکومت اپنے ذمہ ہمت پر فرض سمجھتی ہے۔“ (روزنامہ زمیندار ۱۳۱اگست ۱۹۳۵ء) ے۔مولوی ظفر علی صاحب اپنے احباب کی ایک شاعرانہ مجلس کا تذکرہ لکھتے ہیں:۔