مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 891
891 ۶۔سرسید احمد خان پر فتویٰ کفر الف۔اس شخص کی اعانت کرنی اور اس سے علاقہ اور رابطہ پیدا کرنا ہرگز درست نہیں۔اصل میں یہ شخص شاگرد مولوی نذیر حسین و بابی بنگالی دہلوی غیر مقلد کا ہے۔یہ شخص بہ سبب تکذیب آیاتِ شاگردمولوی یہی قرآنی کے مرتد ہو کر ملعون ابدی ہوا اور مرتد ہوا۔ایسا مرتد کہ بلا قبول اسلام اسلامی عملداری میں جزیہ دے کر بھی نہیں رہ سکتا، مگر اہل کتاب اور ہنود وغیرہ جزیہ دے کر اسلامی عملداری میں رہ سکتے ہیں۔گویا نہایت سخت کا فرومرتد ہے۔“ (انتظام المساجد صفحه ۱۳ تا صفحه ۱۵ مصنفہ مولوی محمد لدھیانوی) ب۔مولونا الطاف حسین حالی لکھتے ہیں :۔سرسید کو ملحد۔لامذہب۔کرسٹان۔نیچری۔دہریہ۔کافر۔دجال اور کیا کیا خطاب دیئے گئے ان کے کفر کے فتوؤں پر شہر شہر اور قصبہ قصبہ کے مولویوں سے مہریں اور دستخط کرائے گئے۔یہاں تک کہ جولوگ سرسید کی تکفیر پر سکوت اختیار کرتے تھے ان کی بھی تکفیر ہونے لگی۔“ ( حیات جاوید حصہ دوم صفحہ ۲۷۸ پانی پتی ۱۹۰۲ء) ج۔مکہ معظمہ کے مذاہب اربعہ کے مفتیوں نے جو فتو کی سرسید احمد خاں پر لگا یا وہ یہ ہے:۔شخص صال اور مضل ہے بلکہ وہ ابلیس لعین کا خلیفہ ہے کہ مسلمانوں کے اغوا کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کا فتنہ یہود و نصاریٰ کے فتنے سے بھی بڑھ کر ہے خدا اس کو مجھے۔۔۔ضرب اور جس سے اس کی تادیب کرنی چاہیے۔(ایضا) علماء مدینہ کا فتوی:۔اگر اس شخص نے گرفتاری سے پہلے تو بہ کر لی تو قتل نہ کیا جائے ورنہ اس کا قتل واجب ہے دین کی حفاظت کے لئے اور ولاۃ امر پر واجب ہے کہ ایسا کریں۔(ایضا) د علیگڑھ یونیورسٹی کے متعلق علماء حرمین شریفین کا فتوی:۔یہ مدرسہ جس کو خدا بر باد اور اس کے بانی کو ہلاک کرے اس کی اعانت جائز نہیں۔اگر یہ مدرسہ بن کر تیار ہو جائے تو اس کو منہدم کرنا اور اس کے مددگاروں سے سخت انتقام لینا واجب ہے۔“ ( حیات جاوید مصنفہ مولانا حاکی جلد ۲ صفحه ۲۸۸ مطبوعه باراوّل) نوٹ:۔احباب علماء کے فتاویٰ تکفیر کی زیادہ تفصیل کے لئے ملاحظہ فرما ئیں مقدمہ بہاولپور