مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 889
889 و جس میں مسلمانوں کو آفتاب کی طرح روشن کر دکھایا کہ طوائف قادیانیہ گنگوہیہ وتھانویہ ونا نوتو یہ ودیو بند یہ وامثالہم نے خدا اور رسول کی شان کو کیا کچھ گھٹایا۔علمائے حرمین شریفین نے باجماع امت ان سب کو زندیق و مرتد فرمایا۔ان کو مولوی در کنار مسلمان جاننے یا ان کے پاس بیٹھنے ان سے بات کرنے کو زہر وحرام و تباہ کن اسلام بتایا۔“ گویا اس فتویٰ میں مولوی رشید احمد گنگوہی ، مولوی اشرف علی تھانوی ، مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی اور ان کے مریدوں اور دیگر تمام دیو بندی خیال کے لوگوں کو باجماع امت“ کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ثابت کیا گیا ہے اور ان کی تکفیر و تفسیق کو احمدی جماعت کی تکفیر و تفسیق سے ممیز نہیں کیا بلکہ ایک ہی رنگ میں بیان کیا ہے اور جیسا اجماع امت ایک کے خلاف ہے ویسا ہی دوسرے کے بھی خلاف ہے۔پس آج تعجب ہے کہ مولوی عبد الحامد بدایونی اور نام نہاد جمیعۃ العلماء پاکستان کے صدر نے اپنے پیر اور علماء حرمین شریفین کے ان متفقہ فتاوی اور اجماع امت کے خلاف ایک نیا امتیاز کہاں سے پیدا کر دیا ہے۔ب۔پھر احمد رضا خان صاحب بریلوی نے محمد قاسم نانوتوی ، مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی محمود الحسن وغیرہ دیو بندی مولویوں کی نسبت لکھا ہے:۔یہ قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد و کفر اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ایسا کہ جوان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں شک کرے وہ بھی انہی جیسا مرتد و کافر ہے۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی انہیں نماز نہ پڑھنے دیں جو ان کو کافر نہ کہے گا وہ خود کا فر ہو جائے گا اور اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہو گی حرامی ہوگی از روئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔“ ( فتوی مذکورہ بالا ) ۵ حنفی بریلوی پر دیوبندی کا فتوی الف۔”مولوی احمد رضا خان بریلوی اور ان کے ہم خیال کافر۔اکفر۔دجال مائۃ حاضرہ۔مرند - خارج از اسلام (رد التكفير على الفحاش الشَّنظیر مصنفہ مولوی سید محمد مرتضی دیو بندی مطبوعه شمس المطابع مراد آبا دشعبان ۱۳۴۳ھ ) ب: فتاوی رشیدیہ ( رشید احمد گنگوہی حصہ سوم با را ول صفحہ ۳۲ میں۔