مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 868
868 رکھ دیا۔چونکہ یہ کام اختیار سے واقع ہوا۔تو اس نے ایسا کا نا کہ ایوب علیہ السلام تاب نہ لا سکے اور یہ کلمہ ان کی زبان مبارک پر جاری ہوا۔( تفسیر حسینی مترجم اردو الموسومه به تفسیر قادری زیر آیت آني مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ الانبياء: ۸۴) ۳۔حضرت ابو اسحاق ابراہیم بن احمد الخواص رحمۃ اللہ علیہ جن کو حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے ”سر ہنگ متوکلان اور سالار مستسلمان“ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کا تو کل میں بڑا شاندار اور بلند درجہ تھا اس کے نشان اور کرامتیں بہت ہیں (تلخیص از کشف انجوب مترجم اردو باب ۱۸افضل ۵۴ ذکر ابو اسحاق ان کی نسبت حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔آخر عمر میں آپ کو دستوں کی بیماری لگ گئی دن رات میں ساٹھ بار غسل کرتے جب حاجت سے فارغ ہوتے غسل کر لیتے “ (تذکرة الاولیاء مترجم اردو باب نمبر ۸ صفح۳۰۴۰٫۳۰۳ تلخیص از کشف الحجاب اردو صفحه باب ۱۸ فصل ۵۴ ذکر ابواسحاق ) ۴۔یہی حضرت ابراہیم الخواص رحمۃ اللہ علیہ اپنا ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں:۔ایک روز میں نواحی شام میں جارہا تھا تو انار کے درخت دیکھے۔میرے نفس نے انار کی آرزو کی مگر چونکہ ترش تھے اس لیے میں نے نہ کھائے جنگل میں پہنچ کر ایک شخص کو دیکھا کہ بے دست و پا اور ضعیف ہے۔اس کے بدن میں کیڑے پڑ گئے ہیں اور بھڑیں اس کو کاٹ رہی ہیں مجھ کو اس پر شفقت آئی اور کہا کہ اگر تو کہے تو میں تیرے لیے دعا کروں تا کہ اس بلا سے تو رہائی پائے۔“ جواب دیا۔” میں نہیں چاہتا میں نے پوچھا۔کیوں؟ جواب دیا۔اس واسطے کہ مجھے عافیت پسند ہے اور اس کو بلا۔مگر میں اس کی پسند کواپنی پسند پر ترجیح دیتا ہوں۔“ میں نے کہا اگر تم چاہو کہ ان بھڑوں کو میں تم سے علیحدہ سے رکھوں۔جواب دیا۔”اے خواص! اپنے آپ سے شیریں انار کی آرزو علیحدہ رکھو۔تو میری سلامتی چاہنا اپنے لیے ایسا دل چاہو جو کچھ آرزو نہ کرے۔“ میں نے کہا کہ تم نے کیسے جانا کہ میں خواص ہوں اور انار شیریں کی آرزو رکھتا ہوں؟“ جوب دیا کہ ” جو حق تعالیٰ کو پہچانتا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔میں نے کہا تمہاری حالت ان بھڑوں اور کیڑوں کے ساتھ کیا ہے؟ جواب دیا ”میری بھڑیں ڈنگ مارتی ہیں اور کیڑے کھاتے ہیں مگر جب وہ ایسا ہی چاہتا ہے تو بہت اچھا ہے۔ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیا ءباب ۸۱ شائع کردہ حاجی چراغدین سراجدین لاہور با رسوم ۴۹۶ ، ۴۹۷ )