مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 46
46 کوئی تعلق نہیں رہتا۔“ (ستیار تحب ۴ دفعه ااا جواب ۳) ۱۲۔بیا ہی عورت مرد کا تعلق دونوں کی موت تک رہتا ہے مگر نیوگ شدہ عورت مرد کا تعلق (ستیارتھ پرکاش ب۴ دفعه ااا جواب ۴) کاریہ کے بعد چھوٹ جاتا ہے۔“ ان دونو حوالوں نے تو معاملہ بالکل صاف کر دیا۔زنا میں بھی یہی ہوتا ہے۔۱۳۔بیاہی عورت مرد با ہم گھر کے کاموں کو سرانجام دیتے ہیں۔کوشش کرتے اور نیوگ شدہ (ستیار تھب ۴ دفعه ااا جواب ۵) عورت مرد اپنے اپنے گھر کے کام کرتے ہیں۔زنا کاری میں بھی یہی ہوتا ہے کہ کام کیا اور الگ ہوئے اور نیوگ میں بھی یہی صورت ہے جس طرح زانی زانیہ کے پاس حق محبت ادا کر کے اپنی حاجت روائی کرتے اور پھر ا لگ ہو جاتے ہیں اور پھر اس کو کوئی حق نہیں رہتا کہ اس کو چھو بھی جائے۔اسی طرح نیوگ میں بھی ہدایت کی گئی ہے۔ہاں اگر کسی کا دل پھنس جائے تو پھر کوئی ہدایت نامہ کارگر نہیں ہوتا۔کیونکہ دل بے اختیار ہے۔پس ایسی بے تعلقی میں مجامعت کا نام بیاہ ہے تو ایسے بیاہ تو روزانہ چار چار آنہ میں ہورہے ہیں۔کوئی نئی اور اعلیٰ بات تو اس میں نہیں۔بلکہ ان چار چار آنہ والیوں کی تو گورنمنٹ بھی بوقت ضرورت داد رسی کرتی ہے اور حق تلفی ہونے پر ان کی فریاد کونتی ہے مگر نیوگ کے متعلق تو گورنمنٹ نے بھی خلاف فیصلہ دے کر زنا کاری قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو فیصلہ اسٹنٹ کمشنر پشاور۔سناتن دھرم گزٹ اپریل ۱۹۰۴ء) ۱۴۔نیوگ بیوہ ہی کے لئے نہیں بلکہ خاوند یا عورت کی موجودگی میں بھی ہوسکتا ہے۔سینے فرمایا ہے:۔نیوگ جیتے جی بھی ہوتا ہے۔جب خاوند اولاد پیدا کرنے کے نا قابل ہو تب اپنی عورت کو اجازت دے کہ اے نیک بخت اولاد کی خواہش کرنے والی عورت تو مجھ سے علاوہ دوسرے خاوند کی خواہش کر کیونکہ اب مجھ سے تو اولاد نہ ہو سکے گی۔تب عورت دوسرے کے ساتھ نیوگ کر کے اولاد پیدا کر لے۔“ لیکن اب بیا ہے عالی حوصلہ خاوند کی خدمت میں کمر بستہ رہے۔ویسے ہی عورت بھی جب بیماری وغیرہ میں پھنس کر اولاد پیدا کرنے کے ناقابل ہو۔تب اپنے خاوند کو اجازت دے کہ اے مالک! آپ اولاد کی امید مجھ سے چھوڑ کر کسی دوسری بیوہ عورت سے نیوگ کر کے اولاد پیدا کیجیے۔“ (ستیار ته ب ۴ دفعه ۱۳۸)