مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 786
786 جواب:۔دراصل فقرہ بالا میں لفظ ” سے کاتب کی غلطی سے بجائے ” قادیان“ اور ”لاہور کے درمیان لکھا جانے کے ”لاہور کے بعد لکھا گیا ہے جس سے مضمون بگڑ گیا ہے اصل فقرہ یوں تھا۔قادیان سے لاہور گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے۔“ اور یہی درست ہے۔اس بات کا ثبوت کہ یہ غلطی مصنف کی نہیں بلکہ کا تب کی ہے یہ ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ”ستارہ قیصریہ کے پہلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں۔قادیان۔۔۔۔۔۔جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر ۷۰ میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے۔“ (ستاره قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۱) ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو قادیان کی سمت لاہور سے معلوم تھی۔ہاں اگر کا تب کو معلوم نہ ہو تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔۵۰ - معراج مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ معراج جسمانی نہ تھا بلکہ روحانی تھا۔الجواب:۔(۱) بخاری میں معراج کی حدیث کے آخر میں ہے:۔وَاسْتَيْقَظَ وَ هُوَ فِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔(بخارى كتاب التوحيد باب قوله وكلم الله موسى تكلیتا) کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور آپ مسجد حرام میں تھے۔کیا آسمان سے اترنے والا آدمی بیدار ہوا کرتا ہے یا سویا ہوا؟ (۲) حضرت معاویہؓ - حضرت عائشہ حضرت خدیجہ - حضرت حسن بصری۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔حضرت امام ابن قیم۔یہ سب معراج روحانی کے قائل تھے۔چنانچہ تفسیر کشاف زیر تفسیر سورۃ الاسراء مصنفہ ابوالقاسم الزمخشری متوفی ۱۱۴۴ھ میں ہے۔وَاخْتُلِفَ فِي إِنَّهُ كَانَ فِي الْيَقْظَةِ أَمُ فِى الْمَنَامِ فَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ وَاللَّهِ مَا فُقِدَ جَسَدُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ وَ عَنِ الْحَسَنِ كَانَ فِي الْمَنَامِ رُؤْيَا رَاهَا۔“ (تفسیر کشاف تفسیر سورۃ بنی اسرئیل آیت:۱)