مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 768
768 کشمیر کے محاذ پر جا کر اپنی جانیں قوم و ملک کی خدمت کے لئے پیش کیں اور کوئی تنخواہ نہیں لی۔کوئی صلہ نہیں مانگا۔جنہوں نے اپنی جوانمردی اور شجاعت کے باعث ایک چپہ بھر زمین پر بھی دشمن کا قبضہ نہیں ہونے دیا۔ان پر تو تم اعتراض کرتے ہو، لیکن تمہارا اپنا یہ حال ہے کہ جس وقت یہ احمدی نوجوان ڈوگرہ فوج کی تو پوں اور ہوائی جہازوں کی بم باری کے سامنے سینے تان کر کھڑے تھے اور هَلْ مِنْ مُبَارِزِ کا نعرہ لگا رہے تھے اس وقت تم لوگ چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھسے بیٹھے تھے۔دھوکہ باز کون ہے؟ احراری معترض کہتا ہے کہ احمدی نوجوان محاز کشمیر پر لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے گئے تھے۔اخبار آزاد کا کانفرنس نمبر ۲۱ دسمبر ۱۹۵۰، صفحہ، کالم نمبر۔لیکن یہ نادان نہیں جانتا کہ دھوکہ باز انسان اپنی جان کی بازی کھیل کر لوگوں کو دھوکہ نہیں دیا کرتا۔احمدی نوجوانوں نے اگر دھوکہ دینا ہوتا تو کبھی محاذ کشمیر پر نہ جاتے۔قرآن مجید اس پر شاہد ہے کہ منافق کبھی حقیقی جنگ میں نہیں جاتا۔وہ ہمیشہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے۔پس اگر احمدی نوجوانوں نے دھوکہ دینا ہوتا تو وہ بجائے محاذ کشمیر پر جانے کے احراریوں کی طرح خاموشی کے ساتھ ملتان اور شجاع آباد میں بیٹھ کر یہ وقت گزار دیتے۔پس دھوکہ باز وہ احمدی نوجوان نہیں تھے جن میں سے بعض نے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى تحية (الاحزاب:۲۴) کے مطابق اپنی جانیں محاذ کشمیر پر جان آفرین کے سپرد کر دیں اور باقی مشهد مَنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب:۲۴) کے مصداق ہوئے۔دھوکہ باز وہ لوگ ہیں جو خود تو اپنے اہل وعیال میں بیٹھ کر آرام اور تنعم کی زندگی بسر کرتے رہے لیکن آج ان احمدی نوجوانوں پر زبان طعن دراز کر رہے ہیں جنہوں نے ملک وقوم کی بہترین خدمات سرانجام دیں۔جن کی خدمات کوحکومت پاکستان کے تمام ذمہ دار افسروں نے سراہا۔آہ! ان گفتار کے غازیوں کو ”کردار“ کے غازیوں پر زبان طعن دراز کرتے ہوئے ایک ذرہ بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔اسلامی جہاد کی اقسام تعلیم اسلامی کے رو سے جہاد کی دو قسمیں ہیں:۔ا۔جہاد کبیر یا جہادا کبر ۲۔جہاد صغیر یا جہاد اصغر قرآن مجید کے رو سے جہاد کبیر سے مراد قرآن مجید کے احکام کی تبلیغ اور ان پر عمل کرنا اور کرانا