مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 754
754 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا فتوی درباره ممانعت جہاد (۱۹۰۲ء) ہی موجود تھا۔پس یہ تحریرات امر متنازعہ فیہ سے بہت عرصہ پہلے کی ہیں۔مولانا غلام رسول صاحب مہر یا کسی اور بزرگ کا جس کو حضرت سید احمد بریلوی اور سید اسمعیل صاحب شہید کے مندرجہ بالا فتاویٰ سے اختلاف ہو۔اکتوبر ۱۹۵۲ء میں یعنی حضرت سید احمد صاحب بریلوی کی شہادت کے ایک سوا کیس اور کتاب کی تحریر کے ساٹھ ستر سال بعد ان روایات کی صحت پر اعتراض کرنا کسی طرح بھی ان کی صحت و اصالت پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔بلکہ ہر اہل علم اور انصاف پسندانسان کے نزدیک ان روایات کو غلط ثابت کرنے کا بار ثبوت بہر حال اس شخص پر ہوگا جوان قدیم اور سید صاحب شہید کے قریب ترین زمانہ میں تحریر شدہ شہادتوں کے غلط ہونے کا ادعا کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو پھر کسی بھی پرانے واقعہ کا اثبات ممکن نہ رہے گا۔مثلاً اگر کوئی معترض قرآن مجید۔احادیث اور تاریخ اسلامی میں درج شدہ واقعات کا یہ کہہ کر انکار کر دے کہ جب تک اصل گواہ اور ان کی شہادتیں میرے سامنے پیش نہ کی جائیں میں ان کی صحت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں اور یہ بھی کہے کہ ان روایات کو درست ثابت کرنے کا بار ثبوت اس شخص پر ہے جوان روایات کو درست قرار دیتا ہے تو ہر ایک اہل علم و عقل کے نزدیک ایسے معترض کا اعتراض درخور اعتناء نہ ہوگا کیونکہ ان روایات کی صحت و اصالت پر اعتراض کرنے کا وقت وہ تھا جب وہ احاطہ تحریر میں لائی گئیں لیکن اگر اس وقت کسی شخص نے ان پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ان کے خلاف کوئی آواز اٹھائی پھر ایک لمبا زمانہ گذر جانے کے بعد جبکہ اصل شواہد اور دستاویزات مرورِ زمانہ کے باعث نا پید ہو چکی ہوں اعتراض بے حقیقت ہو کر رہ جاتا ہے جب تک کہ ایسا معترض اپنی تائید میں نا قابل تردید ثبوت اور دلائل پیش نہ کرے۔پس آج جبکہ حضرت سید احمد شہید اور حضرت اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہا کے یہ فتاویٰ جماعت احمدیہ کی تائید میں پیش کئے گئے ہیں کسی اختلاف رائے رکھنے والے بزرگ کا اعتراض ہرگز قابل اعتناء قرار نہیں دیا جا سکتا۔مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری کی نسبت حضرت سید احمد بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک اور سیرت نگار مولانا ابوالحسن صاحب ندوی لکھتے ہیں :۔سید صاحب کے بہت بڑے تذکرہ نگار اور واقف حال تھے۔آپ سید صاحب کے خلفاء سے بیعت اور سید صاحب کے نہایت بچے اور پر جوش معتقد تھے اور آپ کی کتاب ( سوانح احمدی۔