مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 738
738 بتایا گیا تھا کہ دجال کی دو آنکھوں میں سے ایک کی بصارت تیز تر ہوگی لیکن دوسری آنکھ نابینا ہوگی۔پس مندرجہ بالا حدیث میں بھی دو نہروں سے مراد د قبال کی دینی اور دنیوی تحریکیں ہی ہیں اور حضور کا منشا یہ ہے کہ جہاں تک اس کی دینی اور مذہبی کارروائیوں کا تعلق ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان سے اغماض نہ برتیں بلکہ پورے زور سے ان کا مقابلہ کریں اور دین اسلام کا روحانی تفوق بدلائل قو یہ دجال کے مذہب پر ثابت کریں۔لیکن جہاں تک اس کی دنیاوی کوششوں کا تعلق ہے گو اس وجہ سے کہ اس نے نام کی مسلمان مغل حکومت سے ہندوستان کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی ہوگی ،مسلمان اس کے سیاسی اقتدار کے آگے جھکنے کو اپنے لئے آگ میں کودنا تصور کریں گے۔پھر بھی اس نظام کے ساتھ تعاون کرنے ہی میں مسلمانوں کا فائدہ مضمر ہوگا۔اسی لئے حضور نے فرمایا کہ دجال کے اس پانی کو سر نیچا کر کے اپنے سر پر ڈال لینا، یعنی اس کی حکومت کو قبول کر لینا اور فَلْيَشْرِبُ مِنْهُ“ کا مطلب یہ تھا کہ اس کے ساتھ تعاون کرنا۔جیسا کہ ابتدائی سطور میں بتایا جا چکا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے سانحہ کے بعد کے حالات کا طبعی اقتضاء یہی تھا کہ مشرکین یعنی ہندو اور سکھوں کے مقابلہ میں مسلمانان ہند نصرانی حکومت کو تر جیح دیتے اور ہندو کی جاری کردہ تحریک عدم تعاون میں شامل نہ ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے کسی خوشامد کے خیال سے نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل میں جہاں تک انگریز کی دنیا وی سیاست کا تعلق تھا اس کی حکومت کو جو آپ کے مامور ہونے سے بیسیوں سال پہلے قائم اور استوار ہو چکی تھی اور جس نے سکھوں کے مظالم کا قلع قمع کر کے مسلمانوں کے لئے مذہبی اور معاشرتی آزادی کا اعلان کر دیا تھا اور جس نے دنیا وی علم و فنون کا راستہ مسلمانوں کے لئے کھولا تھا اپنے تعاون کا یقین دلاتے لیکن جہاں تک انگریز کی پیش کردہ دوسری نہر ( عیسائیت کی تبلیغ ) کا تعلق ہے آپ نے دوسرے مسلمانوں کی طرح اس سے اغماض نہیں برتا بلکہ تن تنہا اس کا دلیرانہ مقابلہ کیا اور اس بات کی قطعا پر واہ نہ کی کہ انگریز آپ کی عیسائیت کے خلاف کوششوں سے ناراض ہوتا ہے یا نہیں۔آپ نے انگریز کے خدا کو مردہ ثابت کیا آپ نے عیسائیت کے مقابلہ میں جو سب سے زبر دست اور فیصلہ کن حربہ استعمال فرمایا وہ