مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 730 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 730

730 ایک قابل غور سوال اب یہاں ایک قابل غور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نجاشی نے قرآن مجید سنے کی فرمائش کی تو حضرت جعفر نے سارے قرآن مجید میں سے سورۃ مریم کو کیوں منتخب کیا ؟ ظاہر ہے کہ سورۃ مریم قرآن مجید کی پہلی سورۃ نہیں تھی۔حضرت جعفر سورۃ فاتحہ سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف بھی پڑھ کر سنا سکتے تھے جو ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہو چکی تھیں اور ان تینوں سورتوں میں عیسائیت کا بالخصوص ذکر ہے۔سورۃ فاتحہ کی آخری آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّائِينَ “ میں یہود اور نصاری کی دینی اتباع سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور سورۃ بنی اسرائیل اور کہف میں حضرت موسیٰ اور عیسی علیہما السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ثابت کرنے کے علاوہ عیسائی قوم کی تباہی کی بھی خبر دی گئی ہے۔پس اگر محض قرآن شریف کے سنانے کا سوال تھا تو پھر اوّل تو حضرت جعفر کو سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہیے تھی کیونکہ وہ ام القرآن ہے اور سارے قرآن کا خلاصہ۔لیکن سورۃ مریم قرآن مجید کا خلاصہ نہیں۔پھر اگر عیسائیت کے متعلق اسلامی نظریہ کا بیان مقصود تھا تو سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ کہف سے بڑھ کر اور کوئی بہتر انتخاب نہ ہوسکتا تھا۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ حضرت جعفر نے نجاشی کے دربار میں پڑھنے کے لئے سورۃ مریم کو منتخب فرمایا اور اس میں سے بھی دور کوع بھی پورے نہیں بلکہ قریباً تم ارکوع کی تلاوت کی جس میں حضرت عیسی علیہ السلام اور آپ کی والدہ حضرت مریم کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے اور جس حصہ میں عیسائیت کے بارے میں کوئی اختلافی عقیدہ بیان نہیں کیا گیا۔پھر حضرت جعفر خاص طور پر آیت ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (مریم: ۳۵) پر آ کر رک جاتے ہیں جس سے اگلی آیت یہ ہے مَا كَانَ لِلهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلد سُبحته (مریم: ۳۶) کہ اللہ تعالیٰ کے شان شایان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ اس سے پاک ہے۔اس آیت میں ابنیت مسیح کی نفی کی گئی ہے اور عیسائیت کے ساتھ سب سے بڑا اختلافی مسئلہ بیان کر کے اگلی آیات میں عیسائیوں کی تباہی اور اسلامی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کی گئی ہے۔لیکن حضرت جعفر" مصلیتا پچھلی آیت پر آ کر رک جاتے ہیں اور صرف اسی حصہ پر اکتفا کرتے ہیں جس کے سننے سے ہر ایک عیسائی کا دل خوش ہوتا ہے۔پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ وفد قریش کا اعتراض تو یہ تھا کہ یہ لوگ ایک نئے دین کے متبع ہیں جو عیسائیت سے مختلف ہے اور نجاشی نے بھی یہی اعلان کیا تھا کہ اگر ان کا یہ دعوئی درست ثابت ہوا تو