مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 728
728 جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شدت بلا کو ملاحظہ فرمایا جو ان کے اصحاب پر کفاروں کی طرف سے نازل ہوئی تھی اگر چہ خود حضور باعث حفاظت الہی اور آپ کے چچا ابو طالب کے سبب سے مشرکوں کی ایذاء رسانی سے محفوظ تھے۔مگر ممکن نہ تھا کہ اپنے اصحاب کو بھی محفوظ رکھ سکتے۔اس واسطے آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ملک حبش میں چلے جاؤ تو بہتر ہے۔کیونکہ وہاں کا بادشاہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور وہ صدق اور راستی سرزمین ہے۔(سیرت ابن ہشام مترجم اردو مطبوعہ رفاہ عام سٹیم پریس لاہور ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۰۶) پس حضور کے حکم کے مطابق مسلمان ایک مشرک نظام سے نکل کر ایک عیسائی حکومت کے سایہ میں جا کر آباد ہو گئے۔ظاہر ہے کہ وہ وہاں حاکم ہو کر نہیں بلکہ محکوم ہو کر رہنے کے لئے گئے تھے اور فی الواقعہ محکوم ہو کر ہی رہے۔ان مہاجرین میں علاوہ بہت سے دیگر صحابہ اور صحابیات کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر ( جو حضرت علی کے بھائی تھے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا زوجہ حضرت جعفر، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت ابوحذیفہ حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا جیسے جلیل القدرصحابہ اور صحابیات شامل تھیں۔حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ ”جب ہم حبشہ میں تھے۔نجاشی بادشاہ جبش کے پاس تو ہم بہت امن سے تھے۔کوئی برائی کی بات ہمارے سننے میں نہ آئی تھی اور ہم اپنے دین کے کام بخوبی انجام دیتے تھے پس قریش نے اپنے میں سے دو بہادر شخصوں کو جو عبد اللہ بن ربیعہ اور عمرو بن عاص ہیں نجاشی کے پاس مکہ کی عمدہ عمدہ چیزیں تحفہ کے واسطے دے کر روانہ کیا۔پس یہ دونوں شخص نجاشی کے پاس آئے اور پہلے اس کے ارکان سلطنت سے مل کر ان کو تحفے اور ہدیئے دئے اور ان سے کہا کہ ہمارے شہر سے چند جاہل نو عمر لوگ اپنا قدیمی دین و مذہب ترک کر کے یہاں چلے آئے ہیں اور تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں اور ایک ایسا نیا مذہب اختیار کیا ہے کہ جس کو نہ ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو اب ہم بادشاہ کے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ان لوگوں کو بادشاہ ہمارے ساتھ روانہ کر دے۔۔۔۔پھر ان دونوں نے وہ ہدیے جو بادشاہ کے واسطے لائے تھے اس کے حضور پیش کیے۔اس نے قبول کئے پھر ان سے گفتگو کی۔انہوں نے عرض کیا اے بادشاہ ! ہماری قوم میں سے چند نو عمر جہلا