مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 714
714 گئے۔پھر وہ محتلم ہوئی اور انہوں نے یہ سب باتیں اس میں مشاہدہ کیں اور اس کا نام محمد رکھا اور اسی قسم کا ایک اور واقعہ بھی ہے جس کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ۸۴۲ ھ میں اسی قسم کا ایک واقعہ ظہور میں آیا ہے۔۲۔حضرت امام سیوطی لکھتے ہیں کہ المعتصد باللہ ابوالفتح خلیفہ بنوعباس کے عہد خلافت میں :۔۷۵۴ ہجری میں۔۔طرابلس میں ایک لڑکی تھی جس کا نام نفیسہ تھا۔تین مردوں سے اس کا نکاح ہوا مگر کوئی اس پر قادر نہ ہو سکا جب اس لڑکی کی عمر پندرہ برس کی ہوئی تو اس کے لپستان غائب ہو گئے اور پھر اس کی شرمگاہ سے گوشت بلند ہونا شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے مرد کا آلہ تناسل بن گیا اور خصیتین بھی ظاہر ہو گئے۔“ تاریخ الخلفاء مصنفہ حضرت امام سیوطی باب المحتضد بالله ابو الفتح منقول از محبوب العلما ءار دو تاریخ الخلفاء۔مطبوعہ پبلک پرنٹنگ پریس لاہور ( ترجمہ کردہ مولوی محمد بشیر صاحب صدیقی ) مولوی فاضل علی پوری صفحه ۶۰۰ ) ۴۲۔مرزا صاحب نے بددعائیں دیں الجواب: (۱) قرآن مجید سے حضرت نوح کی بددعا سورۃ نوح میں پڑھو۔رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكُفِرِينَ دَيَّارًا (نوح (۲۷) کہ میرے رب زمین پر ایک بھی کافر نہ چھوڑیو۔(۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمتہ للعالمین ہیں انہوں نے بھی بد دعا کی۔بخاری شریف میں ہے۔قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِى جَهْلٍ وَ عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَ شَيْبَةَ بنِ رَبِيعَةَ۔( بخاری کتاب الوضوء باب إِذَا الْقِي عَلَى ظَهَرَ الْمُصَلِّي۔۔۔۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ قریش کو ضرور ہلاک کر۔آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔پس قریش پر یہ شاق گذرا کیونکہ آپ نے ان کو بددعادی تھی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر فرمایا۔اے اللہ ! ابو جہل کو ضرور ہلاک کر۔اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کو ہلاک کر۔(۳) اسی طرح قریش ہی کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کا ذکر بخاری جلدا کتاب الاذان باب يَهْوِى بِالتَّكْبِيرِ حِيْنَ يَسْجُدُ میں بھی ہے:۔قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔۔۔فَيَقُولُ اللَّهُمَّ اشْدُدُ