مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 666 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 666

666 ابو ہریرہ اور انس بن مالک۔۲۔عَنْ أَبِي حَسَّانِ أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثَهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّيَرَةُ فِى الْمَرُءَةِ وَالْفَرْسِ وَالدَّارِ فَغَضِبَتْ غَضْبًا شَدِيدًا فَقَالَتْ مَا قَالَهُ إِنَّمَا قَالَ كَانَ اَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَالِكَ۔“ (اصول الشاشى مَا ثَبَتَ بِالسُّنَّۃ صفحہ ۲۹) کہ دو شخص حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور کہا کہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ عورت، گھوڑے اور گھر میں بدشگونی ہوتی ہے۔اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سخت ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً نہیں فرمایا بلکہ آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ان کو بدشگون سمجھتے تھے۔۳۔حضرت ابو ہریرہ بے شک روزہ دار کے حق میں فتویٰ دیتے تھے کہ صبح ہونے سے پہلے غسل کر چکے اور عائشہ صدیقہ کی روایت چونکہ مرفوع ہے۔اس لیے بحکم اصول حدیث وہ مقدم ہے۔کیونکہ شارع علیہ السلام کا فعل ہے اور ابو ہریرہ کا فتویٰ ان کا اجتہادی ہے۔( اہلحدیث ۱۸؍ جولائی ۱۹۳۰ء )۔فقہاء میں بعض اس بات کے قائل ہیں کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضوٹوٹ جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے سامنے جب اس مسئلہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔تو حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا۔اگر یہ صحیح ہو تو اس پانی کے پینے سے بھی وضوٹوٹ جائے گا جو آگ پر گرم کیا گیا ہو۔حضرت عبداللہ بن عباس حضرت ابو ہریرہ کو ضعیف الروایت نہیں سمجھتے تھے لیکن چونکہ ان کے نزدیک یہ روایت درائت کے خلاف تھی اس لیے انہوں نے تسلیم نہیں کی اور یہ خیال کیا کہ سمجھنے میں غلطی ہوگی۔( اہلحدیث ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء) ۱۶۔مبارک احمد کی وفات کی پیشگوئی صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات پر حضرت مرزا صاحب نے لکھا تھا کہ اس کی وفات کے متعلق میں پہلے سے پیشگوئی کر چکا ہوں کہ وہ بچپن میں فوت ہو جائے گا ( تریاق القلوب طبع اوّل صفحه ۴۰ حاشیہ ) یہ جھوٹ ہے(نعوذ بالله) جواب:۔مبارک احمد کی وفات پر حضرت اقدس علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا۔اسی حوالہ میں