مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 665
665 کھائی ہے۔پس حضرت اقدس علیہ السلام نے جس تفسیر کا حوالہ دیا ہے وہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر نہیں بلکہ تفسیر مظہری مؤلفہ جناب مولوی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ہے۔اس تفسیر میں بعینہ آیت محولہ "وَ اِن مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ“ کے نیچے لکھا ہے:۔تَأْوِيلُ الْآيَاتِ بِارْجَاعِ الضَّمِيرِ الثَّانِي إِلَى عِيْسَى مَمْنُوعٌ إِنَّمَا هُوَ زَعْمٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَيْسَ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ فِي الْأَحَادِيثِ الْمَرْفُوعَةِ وَكَيْفَ يَصِحُ هَذَا التَّأْوِيلُ مَعَ إِنَّ كَلِمَةً إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ شَامِلٌ لِلْمَوْجُودِيْنَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَجْهَ أَنْ يُرَادَ بِهِ فَرِيقٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ يُوْجَدُوْنَ حِيْنَ نُزُولِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ “ (تفسیر مظہری تفسیر سورة النساء زير آيت و ان من اهل الكتاب الا ليومنن به (النساء: ١٦٠) یعنی آيت إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ مِیں قَبْلَ مَوْتِہ کی ضمیر کو عیسی علیہ السلام کی طرف پھیرنا ممنوع ہے۔(حضرت ابو ہریرہ نے اس سے حضرت عیسیٰ مراد لئے ہیں تو ) یہ حضرت ابوہریرہ کا اپنا زعم ہے جس کی تصدیق کسی حدیث سے نہیں ہوتی اور ان کا یہ خیال درست ہو کیونکر سکتا ہے جبکہ کلمہ "ان من میں تمام وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ اس سے مراد صرف وہ یہودی لئے جائیں جو حضرت عیسی کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ย ۱۵۔حضرت ابو ہریرۃ کا اجتہاد باقی عبارت محولہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت ابو ہریرہ کے اجتہاد کو جو مردود قرار دیا ہے تو یہ درست ہے۔ملاحظہ ہو:۔۱۔اصول حدیث کی مستند کتاب اصول شاشی ( علامہ نظام الدین اسحاق بن ابراہیم الشاشی ) میں ہے۔الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ الرُّوَاةِ هُمُ الْمَعْرُوفُونَ بِالْحِفْظِ وَالْعَدَالَةِ دُونَ الْإِجْتِهَادِ وَالْفَتْوَى كَابِي هُرَيْرَةَ وَانْسِ ابْنِ مَالِك (اصول شاشى مع شرح از محمد فیض الحسن الاصل الثاني بحث تقسيم الراوی علی قسمین مطبوع کانپور صفحہ ۷۵ ) کہ راویوں میں سے دوسری قسم کے راوی وہ ہیں جو حافظہ اور دیانتداری کے لحاظ سے تو مشہور ہیں۔اجتہاد اور فتویٰ کے لحاظ سے قابل اعتبار نہیں جیسے