مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 650
650 نوٹ:۔ا۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ آیات منسوخ ہوگئی ہیں۔کیونکہ یہ بات کہ خدا کے نزدیک دین حنفية المسلمة ہے اور یہ کہ انسان بڑا حریص ہے۔یہ سب اخبار ہیں نہ کہ احکام اور اس پر سب غیر احمدی علماء کا اتفاق ہے کہ اخبار میں نسخ جائز نہیں۔۲۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خدا کے نزدیک دین حنفية المسلمة “ نہیں بلکہ وو یہودیت اور نصرانیت ہو گیا ہے؟۔ان آیات کی ناسخ کونسی آیت ہے جس کی وجہ سے یہ آیات منسوخ ہو گئی ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ حدیث مذکور بالا میں لفظ " قَرَءَ فِيهَا “ ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ میں یہ عبارت پڑھی تھی اس کو سورۃ کی تفسیر قرار نہیں دیا جا سکتا ورنہ ” قَالَ فِيهَا “ کہنا چاہیے تھا۔۴۔علامہ سعدالدین تفتازانی، ملاخسر و ، ملاعبدالحکیم ان تینوں نے لکھا ہے کہ حدیث يَكْفُرُ لَكُمُ الْأَحَادِيْتُ مِنْ بَعْدِی بخاری میں ہے حالانکہ یہ حدیث موجودہ بخاری میں نہیں ہے۔(توضيح مع حاشيه التلويح شرح الشرح مطبع كريميه قزان ۱۳۳۱ جلد ا صفحه ۴۳۳) اسی طرح سے حدیث خَيْرُ السَّوْدَانِ ثَلَاثَةٌ لُقْمَانُ وَ بَلَالٌ وَ مَهْجَعُ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي صَحِيحِهِ۔عَنْ وَائِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ بِهِ مَرْفُوعًا كَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ الرَّبِيعِ لَكِنْ قَوْلُ الْبُخَارِي سَهُو قَلَمٍ إِمَّا مِنَ النَّاسِخِ اَوْ مِنَ الْمُصَنَّفِ فَإِنَّ الْحَدِيثِ لَيْسَ مِنَ الْبُخَارِيِّ۔( موضوعات کبیر از مولاناعلی القاری صفحه ۲۴ ناشر نورمحمداح المطابع کارخانہ تجارت آرام باغ کراچی مطبع ایجوکیشنل پریس کراچی) کہ حدیث سوڈان کے بہترین آدمی تین ہیں یعنی (۱) لقمان (۲) بلال (۳) محیع جو آنحضرت صلعم کے غلام تھے۔یہ حدیث بخاری میں وائلہ بن الاسقع سے مرفوعاً مروی ہے۔حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ علامہ ابن ربیع کا یہ کہنا کہ یہ حدیث بخاری میں ہے یہ یا تو مصنف کا سہو قلم ہے اور یا کاتب کا کیونکہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔وہ مولوی جو " فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِيُّ ابن ماجه كتاب الفتن باب خروج المهدى ) والی حدیث کے بخاری میں نہ ملنے پر حضرت مسیح موعود پر کا ذب ہونے کا الزام لگاتے ہیں کیا وہ اپنے علامہ سعد الدین تفتازانی۔ملا و علامہ خسرو، ملا عبدالحکیم اور علامہ ابن الربیع کو بھی کا ذب کہیں گے؟۔امام بیہقی کی کتاب ” الاسماء والصفات ناشر دار احیاء التراث العربی صفحہ ۴۲۴ میں لکھا ہے