مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 635 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 635

635 حقیقۃ الوحی کا حوالہ حضرت اقدس علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی میں تحریر فرمایا ہے کہ اس لڑکے کا پیدا ہونا معرض التواء میں پڑ گیا۔کیونکہ حضور نے دعا فرمائی تھی کہ رَبِّ اَخِرُ وَقتَ هذا “ (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۳)اے اللہ ! زلزلہ میں تا خیر ڈال دے اور اللہ تعالیٰ نے حضور کو بتا دیا کہ أَخَّرَهُ اللَّهُ إِلَى وَقتٍ مُسَمًّى (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۰۳) کہ اللہ تعالیٰ نے زلزلہ کو کسی اور وقت پر ٹال دیا۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۳ کے حوالہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ زلزلہ اسی وقت " ظاہر ہو گا جبکہ عالم کباب ظاہر ہو جائے گا۔ا۔باقی رہا تمہارا یہ کہنا کہ منظور محمد اور محمدی بیگم کا لفظ موجود ہے۔پھر ان سے کوئی دوسرا کیونکر مراد ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال علم دین سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔کیونکہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام دنیا کے خزانوں کی کنجیاں وُضِعَتْ فِي يَدَيَّ (بخارى كتاب الرؤيا والتعبير باب المفاتيح في اليد) کہ وہ چابیاں میرے ہاتھ میں رکھی گئیں۔حالانکہ ظاہر ہے کہ قیصر وکسری کے خزانوں کی کنجیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں حاصل نہیں ہوئیں۔بلکہ حضور کی وفات کے بعد حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں یہ ملک فتح ہوئے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد حضرت عمرؓ ہو سکتے ہیں تو منظور محمد سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیوں نہیں ہو سکتے ؟ جو حقیقی اور اصلی منظور محمد ہیں۔۲۔پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب میں اگر چاند سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ اور سورج سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام اورستاروں سے مراد بھائی ہو سکتے ہیں حالانکہ صریح لفظ چاند سورج اور ستاروں کا موجود ہے تو پھر اس خواب میں منظور محمد کی تعبیر کیوں نہیں ہو سکتی؟۔اسی طرح لکھا ہے: قَالَ السُّهَيْلِيُّ قَالَ اَهْلُ التَّعْبِيرِ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ أُسَيْدَ بْنَ أَبِي الْعَيْصِ وَالِيَّا عَلَى مَكَّةَ مُسْلِمًا فَمَاتَ عَلَى الْكُفْرِ وَ كَانَتِ الرُّؤْيَا لِوَلَدِهِ عَتَّابِ حِيْنَ أَسْلَمَ فَوَلَّاهُ۔تاریخ الخمیس مصنفہ علامہ شیخ حسین بن محمد ابن الحسن الدیار بکری جلد ۲ صفحہ ایڈیشن اول مطبوع ۱۳۰۲ھ ) یعنی سہیلی کہتے ہیں کہ اہل تعبیر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص اسید بن ابی العیص کو خواب میں دیکھا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور مکہ شریف کا گورنر بنا ہوا ہے لیکن اسید مذکور بغیر مسلمان