مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 631
631 نام بشیر الدولہ اور عالم کباب وغیرہ ہوگا۔(تذکرہ ایڈیشن سوم صفحه ۵۹۸ وصفحه ۶۲۶) جواب: حضرت اقدس کے اصل الفاظ درج کئے جاتے ہیں :۔۱۹ فروری ۱۹۰۶ء کو رؤیا دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا۔بشیر الدولہ فرمایا کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔“ ( بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۲۳ فروری ۱۹۰۶ صفحه ۲ و مکاشفات صفحه ۴۹ از حضرت مسیح موعود و تذکره صفحه ۵۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء ) پس حضرت اقدس نے صاف فرما دیا ہے کہ منظور محمد کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔اور نہ الہاماً یہ تعیین کی گئی۔اور حضرت اقدس نے ضروری قرار نہیں دیا کہ منظور محمد سے مراد میاں منظور محمد صاحب ہی ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ خواب ہے اور خواب میں نام صفات کے لحاظ سے بتائے جاتے ہیں۔پس منظور محمد سے وہ شخص مراد ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے زیادہ منظور نظر اور محبوب ہے۔ہاں ہاں جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمُهُ اِسْمِي“ (اقتراب الساعة صفحه ۶ مطبوع نول کشور مطبع مفید عام الکائنہ فی آگر ہس) کا ارشاد فرمایا۔وہی جس کو آپ نے اپنا سلام دیا۔پس وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے خادم حضرت مسیح موعود ہی ہیں جنہوں نے فرمایا وَمَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِى وَمَا رَأى۔(خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۹) پس اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے ذریعے یہ خبر دی تھی کہ وہ کلمتہ اللہ اور سلسلہ احمدیہ کی اقبال مندی کا نشان عنقریب اپنی عظیم الشان صفات کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہونے والا ہے اور اس کی وہ موعودہ صفات جو ۱۹۰۶ ء تک دنیا کی نظر سے مخفی تھیں اب ان کے ظہور کا وقت قریب آگیا ہے۔چنانچہ ۱۹۰۶ ء ہی میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اپنے سن بلوغ کو پہنچے۔اور آپ نے رسالہ تشخید الاذہان جاری فرمایا۔جس کی خوبیوں کا اعتراف مولوی محمدعلی صاحب ایم اے کو بھی کرنا پڑا۔۱۹۱۴ء میں ۲۵ سال کی عمر میں آپ خلیفہ اسی ہوئے۔اور اسی سال زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی جنگ عظیم کی صورت میں پوری ہوئی۔( تذکرہ ایڈیشن سوم صفحہ۵۹۹) ایک اور ثبوت پھر حضرت اقدس کے اس صریح ارشاد کے علاوہ کہ معلوم نہیں منظور محمد کے لفظ سے کس