مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 613
613 موقعہ پر جو مضمون ”محمود اور خدائی مسیح کے دشمنوں کا مقابلہ بعنوان ”صادقوں کی روشنی شائع کیا اس میں لکھا ہے کہ یہ دعا دعائے مباہلہ نہیں تھی۔اب تم کیوں اس کو مباہلہ کی دعا قرار دیتے ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صریحا دھوکہ ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ اشتہار آخری فیصلہ دعائے مباہلہ نہ تھا۔کیونکہ مباہلہ تو اس صورت میں ہوتا کہ ثناء اللہ بھی بالمقابل قسم کھاتا یا دعا کرتا۔مگر چونکہ اس نے بالمقابل دعا نہیں کی اس لئے مباہلہ نہیں ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اسی مضمون میں صفائی اور صراحت کے ساتھ اس مجوزہ طریق کار کو مباہلہ قرار دیا ہے اور پھر ثناء اللہ کے انکار کا ذکر کر کے فرمایا ہے کہ مباہلہ نہیں ہوا۔چنانچہ چندا اقتباسات اس مضمون سے یہاں درج کئے جاتے ہیں۔(1)۔یہ ایک فیصلہ کا طریق تھا جس سے جھوٹے اور بچے میں فرق ہو جائے اور اس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ حق اور باطل میں کچھ ایسا امتیاز پیدا ہو جائے کہ ایک گروہ بنی نوع انسان کا اصل واقعات کی تہ تک پہنچ جائے اور شرافت اور نیکی کا مقتضا یہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ اس دعا کو پڑھ کر اپنے اخبار میں شائع کر دیتا کہ ہاں مجھ کو یہ فیصلہ منظور ہے مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اس کو سوائے ہوشیاری اور چالا کی کے اور کسی بات سے تعلق ہی نہیں۔اور اگر وہ ایسا کرتا تو خداوند تعالیٰ اپنی قدرت دکھلاتا اور ثناء اللہ اپنی تمام گندہ دہانیوں کا مزہ چکھ لیتا اور اسے معلوم ہو جاتا کہ ایک ذات پاک ایسی بھی ہے جو جھوٹوں اور بچوں میں فرق کر دکھلاتی ہے اور وہ جو بدی اور بدذاتی کرتا ہے اپنے کئے کی سزا کو پہنچتا ہے اور شریر اپنی شرارت کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے۔مگر جبکہ برخلاف اس کے اس نے اس فیصلہ سے بھی انکار کیا اور لکھ دیا کہ مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں تو آج جبکہ حضرت صاحب فوت ہو گئے ہیں اس کا یہ دعوی کرنا کہ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں اور یہ میری سچائی کی دلیل ہے، کہاں تک انصاف پر مبنی ہے۔“ ( تفخیذ الاذہان صفحہ ۵۹ بابت ماہ جون ، جولائی ۱۹۰۸ء) (۲)۔یہ جان بوجھ کر حضرت کی وفات کو اس دعا کی بناء پر قرار دیتا ہے کیونکہ باوجودا قرار کرنے کے کہ میں نے انکار کر دیا تھا پھر اپنی سچائی ظاہر کرتا ہے۔کیا یہ اتنی بات سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ اس مباہلہ یا دعا کی ضرورت تو بچے اور جھوٹے کے فیصلہ کے لئے تھی۔(ایضا صفہ ۱۶۳) (۳)۔اس وقت تو سچائی کے رعب میں آ کر اس نے حیلہ بازی سے اپنا سر عذاب الہی کے نیچے سے نکالنا چاہا مگر جب کہ اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح سے بدل گیا تو اس نے اس