مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 605
605 جوا و پر درج ہو چکی ہے ) تو حضرت کی طرف سے مندرجہ ذیل جواب بدر ۴ را پریل ۱۹۰۷ میں دیا گیا، لیکن مولوی ثناء اللہ پھر فرار کی راہ اختیار کرنے لگا، جیسا کہ اس کے جواب میں مندرجہ اہل حدیث ۱۹؎ اپریل ۱۹۰۷ سے ظاہر ہے۔تو اس کے جواب کے اشاعت سے قبل ہی اللہ تعالی نے حضرت اقدس کو اس کے ارادہ سے مطلع فرما دیا اور حضور نے ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء کا اشتہار آخری فیصلہ شائع فرما دیا تا کہ ثناء اللہ کے لئے گول مول کر کے ٹالنے کی گنجائش ہی نہ رہے اور وہ مجبور ہو کر تصرف الہی کے ماتحت موت کو اپنے سر پر سوار دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے لکھ دے کہ تمہاری یہ تحریر مجھے منظور نہیں ، اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔( اخبار اہل حدیث ۱۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء) چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل کی جاتی ہے:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب ”مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔وہ بیشک ( آپ ) قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص ( حضرت مسیح موعود ) اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے اور بیشک یہ بات کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ۔مباہلہ کی بنیاد جس آیت قرآنی پر ہے اس میں تو صرف لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ آیا ہے۔“ اخبار بدر ۴ را پریل ۱۹۰۷ ، صفحیم) ثنائی فرار میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا، میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں۔میں نے حلف اٹھا نا کہا ہے۔مباہلہ نہیں کہا قسم اور ہے مباہلہ اور ہے۔“ ( اہل حدیث ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ صفحیم ) ابھی یہ شنائی فرار معرض ظہور میں نہیں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو علیم وخبیر ہے اپنے مسیح موعود کو اس کی اطلاع دے کر اپنے شکار کو دنیا کے سامنے شرمندہ کرنے کے لئے ایک طریق کی تحریک فرمائی۔چنانچہ اس کے مطابق حضور نے آخری اتمام حجت کے طور پر ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء کو اپنی طرف سے دعاء مباہلہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ“ کے عنوان سے شائع فرما دی۔جس میں اپنی طرف سے دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ بچے کی زندگی میں جھوٹے کو ہلاک کر دے اور بالآ خر لکھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس اشتہار کو اہل حدیث میں شائع فرما کر ” جو چاہیں اس کے نیچے