مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 602
602 که نبر اس شرح الشرح عقاید سفی صفحہ ۳۹۲ میں ہے۔گاننِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ وَ يَكُونُ خَطْئًا كَمَا ذَكَرَهُ الْأُصُولِيُّونَ۔۔۔۔وَفِي حَدِيثِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ اللهِ فَهُوَ حَقٌّ وَمَا أَقُولُ فِيْهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أُخْطِئُى وَ أُصِيبُ کہ آنحضرت بعض اوقات اجتہاد کرتے تھے تو وہ غلط بھی ہوتا تھا، جیسا کہ اصولیوں نے لکھا ہے اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جو بات تو میں کہوں کہ خدا نے کہی ہے تو وہ بالکل درست اور حق ہو گی مگر جو بات اس کی تشریح کرتے ہوئے میں اپنی طرف سے کہوں ضروری نہیں کہ درست ہی ہو کیونکہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں کبھی درست بات بتا تا ہوں اور کبھی مجھ سے بھی خطا ہو جاتی ہے۔( مفصل دیکھو صفحہ ۹۳۷ پاکٹ بک طذا) ( دوم ) حضرت مسیح موعود کی یہ سب تحریرات عبدالحکیم مرتد کی پیشگوئیوں کے بالمقابل ہیں۔جب اس نے اپنی طرف سے شرائط کو تبدیل کر دیا تو حضرت کے جوابات بھی بحال نہ رہے۔تم الزام تو اس صورت میں دیتے کہ وہ اپنی بات پر قائم رہتا اور پھر حضرت پر اسے اعتراض کرنے کا موقعہ ملتا۔حضرت کی غرض تو رَبِّ فَرِقْ بَيْنَ صَادِقٍ وَ كَاذِبِ“ کی تھی۔کیا بچے جھوٹے میں فرق نہیں ہوا ؟ کیا حضرت اس کے شر سے محفوظ نہیں رہے؟ اور اس کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا نہیں کیا؟ اور پھر کیا وہ ۱۹۱۹ء میں پھیپھڑے کی مرض (سل) سے ہلاک نہیں ہوا؟ اور وہ فرشتوں کی کچھچی ہوئی تلوار سے مسلول نہیں کیا گیا؟ اگر یہ سب واقعات بچے ہیں اور یقیناً بچے ہیں تو حضرت مسیح موعود کی صداقت میں کون سے شک وشبہ کی گنجائش ہے؟۔مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ سوال :۔مرزا صاحب نے مولوی ثناء اللہ کی موت کی پیشگوئی کی؟ جواب:۔یہ افتراء ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہرگز ثناء اللہ کی موت کی پیشگوئی نہیں کی۔چنانچہ آپ اشتہار ”آخری فیصلہ میں لکھتے ہیں۔یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں“ مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۷۹ اشتہار مورخہ ۱۵ اپریل ۱۹۷ء) کوئی مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ حضور نے ثناء اللہ کے متعلق حضور کی زندگی میں مرنے کی پیشگوئی کی تھی۔ہاں اس کو دعوت مباہلہ دی تھی جس کی تفصیل درج ذیل ہے:۔