مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 579 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 579

579 کب ہوگی؟ اگر وہ تو بہ کرے گا۔“ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر عبارت جو مخالف مولوی پیش کرتے ہیں درست ہے اور ہمیں مسلم ہے مگر سوال یہ ہے کہ پیشگوئی کے بعد اگر سلطان محمد تو بہ نہ کرتا اور پھر بھی زندہ رہتا اور نکاح نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پر اعتراض ہو سکتا تھا مگر یہاں تو نکاح سلطان محمد کی عدم تو بہ کے ساتھ مشروط تھا۔اس لئے جس قدر عبارات نکاح کے متعلق ہیں وہ بھی سلطان محمد کے تو بہ نہ کرنے کے ساتھ مشروط ہیں۔بیعت کیوں نہ کی؟ بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ سلطان محمد نے تو بہ کر لی تو کیا ہوا۔بات تو جب تھی کہ وہ بیعت کر لیتا۔سو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی ۱۸۸۶ء سے لے کر ۱۸۸۸ء تک مکمل ہوئی اور توبہ کی شرط بھی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء اور ۱۵ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں ہے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کا دعوی نہ تو نبی ہونے کا تھا، نہ مسیح موعود اور مہدی ہونے کا ، نہ ہی آپ اس وقت بیعت لیتے تھے بلکہ جو شخص بیعت کرنے آتا حضور لَسْتُ بِمَأْمُورٍ “ ( کہ میں مامور نہیں ہوں ) کہہ کر انکار کر دیتے تھے ( بیعت ۱۸۸۹ء میں ہوئی) نہ اس زمانہ میں احمدی غیر احمدی کا سوال تھا کیونکہ حضور نے اپنی جماعت کا نام ”مسلمان فرقہ احمدیہ ۱۹۰۰ء میں رکھا۔پس تو بہ کی شرط سے مراد ہرگز ہرگز بیعت“ یا نبوت مسیحیت و مہدویت کا اقرار یا احمدی ہونا نہ تھا۔اس زمانے میں حضرت کا دعویٰ صرف اس قد رتھا کہ میں اسلام کا خدمت گزار ہوں ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۶۷ ) اور اسی بات کا احمد بیگ وسلطان محمد کو انکار تھا۔اب سلطان محمد کے خط کو دیکھ لو، اس میں اس نے حضرت کو اسلام کا خدمت گذار تسلیم کیا ہے۔نیز ” خدایا کہ کر خدا کی ہستی کا بھی اقرار کر لیا ہے اور شریف النفس“ کہ کر تسلیم کر لیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی یہ پیشگوئی ہرگز ہرگز نفسانیت کے جوش کے ماتحت نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تھا جس کی تکمیل میں حضرت نے اس کو شائع کیا۔پس اگر سلطان محمد کو اس پیشگوئی کی صداقت میں ذرہ بھر بھی شبہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود کو اسلام کا خدمت گذار“ اور ”شریف النفس اور خدا یاد نہ کہتا۔پس جس جس چیز کا پیشگوئی کی اشاعت کے وقت ان لوگوں کو انکار تھا، بعینہ انہی امور کا اقرار اس خط میں موجود ہے۔پس سلطان محمد نے مکمل تو بہ کی ہے۔بیعت وغیرہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔