مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 554 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 554

554 کیوں مراد نہ لی جائے؟ یعنی وہ الہام جو محض طبعی فہم و تفہیم کے لئے ہوں وہ تو نبی کی اپنی زبان میں ہوں مگر جو دوسری قوموں کی ہدایت کے لئے ہوں وہ مختلف زبانوں میں ہو سکتے ہیں۔۲۔یہ کہنا کہ حضرت سلیمان کو پرندوں کی زبان والے الہام ہوتے تھے وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے نہ تھے محض دھو کہ رہی ہے کیونکہ خواہ وہ کسی کی ہدایت کے لئے ہوتے تھے ،سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ حضرت سلیمان کی اپنی زبان تھی یا نہیں ؟ کیا وہ ان کی قوم کی زبان تھی؟ نہیں ہر گز نہیں۔پس تمہاری تاویل سے ثابت ہو گیا کہ مَا ارسلنا والی آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم بیان کرتے ہو بلکہ یہ ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تا کہ تبلیغ واشاعت کے لئے شاگر د تیار کر سکے۔اس کے الہامات کی زبان کا وہاں ذکر ہی نہیں نیز یہ کہ یہ آیت آنحضرت سے پہلے انبیاء کے متعلق ہے۔فَافُهُمْ۔۔حضرت مسیح موعود انگریزی زبان کا ایک لفظ بھی نہ جانتے تھے مگر پھر بھی آپ پر اس زبان میں الہام ہونا ایک معجزہ ہے۔خصوصا اس حالت میں کہ قادیان میں بھی کوئی انگریزی زبان دان اس وقت موجود نہ تھا۔یہ دلیل ان لوگوں کو دی گئی ہے جو الہام کو مہم کے دماغی خیالات قرار دیتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ الہام میں نبی کے اپنے خیالات کا دخل نہیں ہوتا بلکہ الہام ایسی زبان میں بھی نازل ہوسکتا ہے جن کو ہم خود بھی نہ جانتا ہو۔پھر اکثر اس الہام کے معنی خود خدا تعالیٰ خود ہی ملہم کو بتا دیتا ہے۔جلد یا بدیر۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ ہوا۔۴۔اور ہم نے یہ جو لکھا کہ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ مِیں آنحضرت سے پہلے انبیاء کا ذکر ہے کیونکہ وہ خاص خاص قوموں کی طرف رسول ہو کر آتے تھے اس کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے چنانچہ مشکوۃ فضائل نبوی کے ضمن میں ایک حدیث ہے:۔عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ اللَّهُ تَعَالَى فَضَّلَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأنْبِيَاءِ قَالَ اللهُ تَعَالَى وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ الله مَنْ يَشَاءُ۔۔۔۔و قَالَ اللهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ فَأَرْسَلَهُ اللهُ إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ۔(مشكوة كتـاب الـفــضــائـل باب فضائل سيد المرسلين۔۔۔۔۔۔الفصل الثالث ) کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کی نسبت فرمایا: ”ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ ان کے سامنے کھول کر بیان کر سکے۔مگر ہمارے نبی کریم کی نسبت فرمایا۔”ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف بھیجا ہے۔“