مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 553 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 553

553 ہوتا ہے۔مفسرین نے اس کے یہ معنی کئے ہیں۔إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ أَى مُتَكَلِّمًا بِلُغَةِ مَنْ أُرْسِلَ إِلَيْهِمُ مِنَ الْأُمَمِ۔(روح المعاني جلد ۵ صفحه ۱۷۶ زیر آیت وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُول۔۔۔۔الخ ابراہیم: ۵) کہ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ نبی اس قوم کی زبان بولا کرتا ہے جس کی طرف وہ مبعوث ہوتا تھا۔(ب) - إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ إِلَّا مُتَكَلّمًا بِلُغَتِهِمُ ( تفسیر مدارج النزيل زیر آیت مَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولِ الخ و برحاشیہ خازن زیر آیت بالا) کہ نبی اپنی قوم کی زبان بولا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی پنجابی اور اردو ہی بولتے تھے۔۲۔اس آیت میں گزشتہ انبیاء کا ذکر ہے جیسا کہ لفظ از سلنا “بصیغہ ماضی سے ثابت ہے اور دوسرا قرینہ ان معنوں کی تائید میں قومی “ کا لفظ ہے کیونکہ گزشتہ انبیاءعلیہم السلام مخصوص قوموں کی طرف مبعوث ہوتے تھے مگر جو نبی کسی خاص قوم کی طرف مبعوث نہ ہو بلکہ تمام قوموں کی طرف مبعوث ہو وہ اس آیت میں شامل نہیں ہوسکتا۔اگر قوم سے نبی کی قومیت رکھنے والے لوگ مرا د لو جیسا کہ آنحضرت کے ساتھ قریش تھے۔تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ آنحضرت کا سارا قرآن کریم قریش کی زبان میں ہی الہام نہیں ہوا۔جیسا کہ آیت ان هذين تسحرن (طه: ۶۴) قریش کی زبان میں إِنْ هدَینِ چاہی تھی۔۔اگر کہو کہ اس آیت میں نبی کا اس قوم کی زبان میں الہام ہونا ہی مراد ہے، خواہ لفظ الہام اس آیت میں موجود ہو یا نہ ہو تو یہ بھی غلط ہے۔کیونکہ قرآن حضرت سلیمان کے متعلق ہے مخلصنا منطق الطير (النمل: ۱۷) کہ حضرت سلیمان کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پرندہ کی بولی سکھائی۔گویا ان کو کوؤں، چیلوں، کبوتروں، بٹیروں ، ہدہدوں اور تمام دیگر جانوروں کی زبان میں الہام ہوا۔آخر انگریزی، عربی، فارسی وغیرہ تو انسانوں ہی کی زبانیں ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا مگر کائیں کائیں تو انسانوں کی زبان نہیں۔اس میں بھی اگر کوئی نبی کو الہام ہوسکتا ہے تو یہاں کیا اعتراض ہے؟ آخر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو پرندوں کی زبان سکھانے کے لئے اس کے قواعد اور اس کے الفاظ بھی بتائے ہوں گے۔فلا اعتراض۔نوٹ۔یہ کہنا کہ تعلمنا کے لفظ میں طبعی فہم و تفہیم ہی داخل ہے۔پلہ چھوڑانے کے لئے کافی نہیں، کیونکہ ما ارسلنا والی آیت زیر بحث میں بھی تو الہام“ کا لفظ نہیں۔وہاں بھی طبعی فہم وتفہیم