مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 523
523 پھر ابھی سہی۔“ ( تجرید البخاری اردو جلد اول صفحه ۱۵۰) بھلا ٹیچی تو محض نام ہے۔تم تو عملاً عزرائیل کو بھی کا نا مانتے ہو۔۲۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ فرشتہ تھا بلکہ فرمایا ہے کہ فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔“ (مکاشفات صفحہ ۳۸) نیز خواب میں جو اس فرشتہ نما انسان نے جو اپنا نام بتایا ہے وہ صرف پیچی ہے۔مگر تم محض شرارت سے ٹیچی نیچی“ کہتے ہو جو یہود کی مثل يُحْرِقُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ ۖ کا مصداق بننا ہے۔عزرائیل کو طمانچہ مارکر کا نا کرنے کی حدیث بخاری کتاب بدء الخلق باب وفات موسى وذكره بعده نیز مسلم کتاب الفضائل باب فضائل موسى نيز مشكلوة كتاب بدء الخلق باب ذكر الانبياء فصل الاول میں بھی موجود ہے۔۳۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ترجمہ بتایا ہے:۔ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۶) اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ کوئی فرشتہ تھا تو اس پر کیا اعتراض ہے۔یہ تو ایک صفاتی نام ہے۔نبی کی اپنی زبان ( پنجابی ) میں۔گویا خدا تعالیٰ نے الہام کیا ہے اور تم اس پر ہنستے ہو اور مذاق اڑاتے ہو۔اگر نبی کی اپنی زبان میں الہام نہیں ہوتا تو اس پر اعتراض کرتے ہو۔کہ غیر زبان میں الہام کیوں ہوا۔خدا تعالیٰ نے تم کو اسی کشف کے ذریعہ سے ملزم اور ماخوذ کیا ہے کہ تمہاری پنجابی زبان تو ایسی زبان ہے کہ غالباً اس کے اکثر حصہ پر مذاق ہی مذاق اڑایا جا سکتا ہے۔اسی لئے عام طور پر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو افضح الالسنہ (عربی) میں الہام کیا۔کیونکہ ضرورت زمانہ اور ملہم کی فطرتی پاکیزگی مقتضی تھی کہ فصاحت اور بلاغت کا معجزہ اسے دیا جاتا مگر پنجابی زبان اس کی متحمل نہ ہوسکتی تھی۔اس لیے آپ کو الہامات کا اکثر حصہ عربی زبان میں ہوا۔۔باقی رہا تمہارا کہنا کہ اس نے جھوٹ بولا اور پہلے کہا میرا کوئی نام نہیں اور بعد میں دوبارہ پوچھنے پر اپنا نام بتایا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ٹیچی جیسا کہ بیان ہوا اس کا ذاتی نام (علم) نہیں، بلکہ صفاتی نام ہے۔گویا نفی ذاتی نام کی ہے اور اثبات صفاتی کا۔جب اس نے کہا کہ میرا کوئی نام نہیں تو اس نے اپنے