مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 517
517 -٢٠ - اَلْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِى عربی غلط ہے هُوَ کی بجائے هُمَا چاہیے۔کیونکہ زمین و آسمان دو ہیں نہ کہ ایک۔جواب:۔یہ جائز ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ (التوبة: ۲۲) کہ اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو خوش کیا جائے۔آپ کے قاعدہ کے مطابق یہاں بھی پُر ضُوهُ کی بجاۓ يُرْضُوهُمَا چاہیے تھا۔۲۱۔تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا“ الجواب ا۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت ہی کے تخت مراد ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں شامل نہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :۔غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں یہ ایک فرد مخصوص ہوں اور جسقد رمجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذرے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا“۔یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قد را مورغیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو (۱۳۰۰) برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۰۶ ) ۲۔چنانچہ اربعین نمبر نمبر ۲ ( جو کٹھے چھپے ہیں ) اس کے صفحہ 9 پر اور پھر اربعین ( جو علیحدہ چھپا ہے ) کے صفحہ ے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام اني فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعَلَمِينَ» درج ہے۔اس کا ترجمہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دو ایڈیشنوں کے صفحہ ۷ اپر کیا ہے۔اور جس قدر لوگ تیرے زمانے میں ہیں سب پر میں نے تجھے فضیلت دی۔“ کے تخت ہیں۔پس معلوم ہوا کہ آپ کا تخت جو سب سے اونچا بچھایا گیا تو اس سے مراد بھی امت محمدیہ ہی ۳۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو خدا کے فضل سے نبی اللہ ہیں اور آپ کا مقام مسیح ناصری علیہ السلام سے بھی بلند ہے۔مگر حضرت پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :۔