مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 514 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 514

514 شخص اس کو نہ پڑھے۔( فتوحات مکیہ باب ۲۸۵ بحوالہ ترجمه ار دوفصوص الحکم تذکره شیخ اکبر ابن عربی صحه ۲۳۲) ۱۰۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف سے مندرجہ ذیل باتیں مدنظر تھیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت سے قلم کے ساتھ زیادہ سیاہی لگا کر اس کو چھڑ کا:۔(الف) خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے اور آریوں کا عقیدہ غلط ہے کہ خدا نیست سے۔ہست نہیں کر سکتا۔بلکہ مادہ ہی سے کوئی چیز بنا سکتا ہے۔(ب) سرخی کے چھینٹے لیکھر ام سے قتل کی پیشگوئی کے طور پر تھے۔( ج ) دستخط کرانے سے مراد یہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے لیکھرام کے قتل کا فیصلہ صادر فرما دیا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔۱۱۔حدیث شریف میں ہے:۔خَلَقَ اللهُ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ بِيَدِهِ خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ وَكَتَبَ السَّورةَ بِيَدِهِ وَ غَرَسَ الْفِرْدَوْسَ بِيَدِهِ » (فردوس الاخبار دیلمی صفحہ۱۰۰) کہ خدا تعالیٰ نے تین چیزیں خاص اپنے ہاتھ سے بنائیں۔حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔تو رات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور فردوس کو اپنے ہاتھ سے بویا۔اب تم جس قدر اعتراض سرخی کے چھینٹوں والے کشف پر کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھا بھی کرتا ہے؟ وہ کاغذ کس کارخانے کا بنا ہوا تھا؟ سیاہی کس کارخانے کی تھی ؟ قلم کیسا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔یہ سب اعتراضات كَتَبَ التَّوْرَاةَ بِيَدِہ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔مَا هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا۔۱۲۔حضرت عبداللہ سنوری جو موقع کا گواہ تھا، نے حلفی بیان دیا کہ اس وقت کوئی ایسی صورت نہ تھی کہ سرخی کہیں سے آسکتی بلکہ میں نے خود سیاہی حضرت اقدس کے گرتے پر گرتی دیکھی۔مفہوم از الفضل ۲۶ ستمبر ۱۹۱۶ء جلده صفحه ۲۴) ۱۸ - كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جواب:۔۱۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سے خدا تعالیٰ کا جلال اور حق کا ظہور مرا دلیا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۷۸ پر ہے:۔يَظْهَرُ بِظُهُورِهِ جَلَالَ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔“ نیز حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۹٬۹۸: ”جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔“