مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 509
509 جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ابُو يَزِيدَ مِنَّا بِمَنْزِلَةِ جِبْرِيلَ مِنَ الْمَلَئِكَةِ یعنی ابويزيد ہمارے درمیان کیسا ہے جیسا کہ جبریل فرشتوں میں اس کی روایتیں بہت بلند ہیں جن میں احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور تصوف کے دس اماموں سے ایک یہ ہوئے ہیں۔اور اس سے پہلے علم تصوف کی حقیقتوں میں کسی کو اس قدر علم نہ تھا جیسا کہ اس کو تھا۔اور ہر حال میں علم کا محب اور شریعت کا تعظیم کنندہ ہوا ہے۔(کشف المحجوب باب ذکران تابعین کا جومشائخ طریقت کے امام ہوئے ہیں۔ترجمہ اردو مطبوعہ ۱۳۲۲ صفحہ۱۲۲) ۴۔بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ کیا کسی نبی نے بھی حیض کا لفظ مردوں کی طرف منسوب کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں مندرجہ ذیل حدیث یا درکھنی چاہیے۔حدیث میں ہے۔الـــــــبُ حَيْضُ الرَّجُلِ وَالْاِسْتَغْفَارُ طَهَارَتُهُ (فردوس الاخبار دیلمی صفحه ۱۶۱ اسطر ۱۷۔راوی سلمان ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹ مرد کا حیض اور استغفار اس کی طہارت ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کا مطلب صرف یہ ہے کہ دشمن تجھ کو جھوٹ یا کسی اور بدی میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن خدا کے فضل سے تجھ میں کوئی بدی اور گندگی نہیں۔۵۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں نہیں لکھا کہ مجھے حیض آیا۔بلکہ آپ نے تو اس بات کی نفی کی ہے۔حضور نے لفظ حیض کی نفی کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کا مفہوم بھی بیان کیا ہے:۔یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اربعین نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۴۵۲ بقیه حاشیه ) گویا یہاں عورتوں والا حیض مراد نہیں بلکہ ”مردوں والا حیض مراد ہے جیسا کہ حوالہ نمبر او۲و۳ وغیرہ میں صوفیاء کرام کی تحریرات اور حدیث شریف سے دکھایا جا چکا ہے۔۱۶- دروزه اسی طرح دردزہ کا محاورہ ہے جو تکلیف اور مصیبت“ کے معنوں میں ہزار ہا سال سے مردوں کے متعلق بھی بولا جاتا رہا ہے۔ا۔خود حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کی تشریح فرمائی ہے۔”مخاض“ دردِ زہ سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں۔با محاورہ ترجمہ یہ ہے۔دردانگیز دعوت جس کا