مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 14
14 سوم: - إِذَا التَّقَوسُ زُوجَتْ - التكوير : (۸) نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہو جانا کہ موجودہ زمانے سے بڑھ کر متصور نہیں۔چهارم : تَرْجُفُ الزَّاحِفَةُ تَتْبَعُهَا الرايقة ( النزعت: ۸،۷) متواتر اور غیر معمولی زلزلوں کا آنا یہانتک کہ زمین کا پنپنے والی بن جائے۔سو یہ زمانہ اس کے لئے بھی خصوصیت سے مشہور ہے۔پنجم:۔وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوْهَا (بنی اسرائیل: ۵۹) یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے کچھ مدت پہلے ہلاک نہیں کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے۔چنانچہ اسی زمانہ میں طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔پھر اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ ہر صدی میں اس کے ماننے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو الہام الہی سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں اور خارق عادت نشانات سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک قادر وتوانامد بر بالا رادہ عالم الغیب ہستی ہے۔چنانچہ اس زمانہ کے مامور پر نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے وحی نازل کی کہ اوّل: يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔۔۔۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ۔۔۔۔وَلَا تُصَعِّرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمْ مِنَ النَّاسِ۔دیکھو براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۶۷-۲۶۸) کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور ایسی کثرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں جن پر وہ چلیں گے عمیق ہو جائیں گی۔تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ القا کریں گے مگر چاہیے کہ تو خدا کے بندوں سے جو تیرے پاس آئیں گے بدخلقی نہ کرے اور چاہیے کہ تو ان کی کثرت دیکھ کر ملاقاتوں سے تھک نہ جائے۔ایک شخص ایک ایسے گاؤں میں رہنے والا جس کے نام سے بھی مہذب دنیا میں سے کوئی آگاہ نہیں یہ اعلان کرتا ہے۔پھر با وجود سخت مخالفتوں اور روکوں کے ایک دنیا دیکھتی ہے کہ امریکہ وافریقہ سے لے کر تمام علاقوں کے لوگ یہاں حاضر رہتے ہیں اور آدمیوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ان سب سے مصافحہ و ملاقات کرنا کسی آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔پھر ایک مقتدر