مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 477
477 ”مساس نکنند اسرار مکنون قرآنی را مگر جماعته را که از لوث تعلقات بشریہ پاک شده باشند۔ہرگاہ نصیب پاکاں مساس اسرار قر آنی بود بدیگران چه رسد؟“ مکتوبات امام ربانی جلد ۳ صفحه ۱ المکتوب چهارم شروع) پس قرآن مجید کے حقائق و معارف پر آگاہ ہونا صداقت کی ایک زبردست دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا کہ قرآن مجید کے علوم اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہیں۔دنیا کا کوئی عالم میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔مگر مولویوں نے اپنی خاموشی سے ثابت کر دیا کہ آسمانی علوم انہیں پر کھولے جاتے ہیں جو آسمان سے اپنے تعلقات وابستہ کر چکے ہوں۔اور یہ کہ دنیا کے مولویوں اور عالموں کا کوئی بڑے سے بڑا استاد بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں علاوہ مختلف آیات کی تفسیر لکھنے کے قرآن مجید کی تفسیر کے نہایت قیمتی اصول بتائے اور خودان اصول کے مطابق آیات قرآنی کی تفسیر کر کے بتا دیا کہ آسمانی علوم آسمان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں ہی کا حصہ ہوتے ہیں۔محض ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا کی گردان رٹ لینے اور عربی سیکھ لینے سے قرآن مجید نہیں آجاتا۔اگر قرآن مجید کے حقائق و معارف کے سمجھنے کا معیار محض عربی زبان کا جاننا ہی ہوتا تو "جرجی زیدان یا اس جیسے عیسائی دہریہ اور یہودی جو عربی زبان کے مسلم استاد اور ادیب ہیں وہ قرآن مجید کے حقائق و معارف اور معانی ومطالب کے سب سے بڑے مفسر ہوتے۔مگر خدا تعالیٰ نے لَا يَمَةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ فرما کر بتا دیا کہ قرآن مجید کے علوم کو وہی مس کر سکتے ہیں جو پاک اور مطہر ہوں۔گویا جتنی جتنی طہارت و پاکیزگی زیادہ ہوگی، اتنا اتنا علوم قرآنی کا دروازہ کھلتا چلا جائے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے علوم قرآنی کے مقابلہ میں تمام دنیا کے علماء و فضلاء وفصحاء و بلغاء کا صاف طور پر عاجز آجانا آپ کے صادق اور راستباز ہونے پر نا قابل تر دید گواہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں درج ہے۔اور وہ یہ ہے الرَّحْمَنُ - عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمن:۳۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم قرآن کا وعدہ دیا تھا۔سواس وعدہ کو ایسے طور سے پورا کیا کہ اب کسی کو معارف قرآنی میں مقابلہ کی طاقت نہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی مولوی اس ملک کے تمام مولویوں میں سے معارف قرآنی میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہے اور