مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 476
476 طور پر احمد ہو یعنی جس کا علم احمد ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام احمد تھا۔غلام احمد کے لفظ میں لفظ ”غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے اکثر ناموں کے ساتھ پایا جاتا ہے۔غلام مرتضی ، غلام قادر ، غلام مجتبی وغیرہ اور ظاہر ہے کہ علم وہی ہوتا ہے جوتمیز واقع ہو اور غلام احمد میں سے تمیز احمد ہے۔پس وہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم ہے۔چنانچہ اس کا دوسراز بر دست ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد مرز اعلام مرتضی صاحب بھی آپ کا نام احمد ہی سمجھتے تھے۔جیسا کہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کے نام پر جود و گاؤں آباد کئے ان کے نام قادر آباد اور احمد آباد علی الترتیب مرزا غلام قادرا ور غلام احمد علیہ السلام کے نام پر رکھے۔غیراحمدی: فَلَمَّا جَاءَهُمُ بِالْبَيِّنت میں لَمَّا ماضی جَاءَ پر آیا ہے اور جب ماضی پر لَمَّا داخل ہو تو اس کے معنی ہمیشہ ماضی ہی کے ہوتے ہیں۔مستقبل کے نہیں ہو سکتے۔احمدی:۔یہ قاعدہ درست نہیں۔قرآن مجید میں ہے۔فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيِّتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا (الملک: ۲۸) کہ جب وہ قیامت کو دیکھیں گے تو کافروں کے منہ خراب ہو جائیں گے۔اس آیت میں راوہ ماضی ہے اور اس پر کما داخل ہوا ہے۔مگر یہ متقبل ( یعنی قیامت) کے متعلق ہے۔بعینہ اسی طرح فَلَمَّا جَاءَهُمْ بھی مستقبل کے متعلق ہے۔نوٹ:۔حدیث أَنَا بَشَارَتْ عِیسی “ میں جس بشارت کا ذکر ہے وہ سورۃ صف والی بشارت نہیں۔کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام نے در حقیقت دو نبیوں کی بشارت دی ہے۔(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔(۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی۔چنانچہ انجیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو بشارت ہے وہ ان الفاظ میں ہے۔اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے۔“ ( یوحنا ۱۴٫۳۔و یوحنا ۷ - ۱۶/۱۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی بشارت کا اپنے آپ کو مصداق قرار دیا ہے۔( تفصیل مضمون ”آنحضرت کی نسبت بائبل میں پیشگوئیاں پاکٹ بک طذا میں دیکھو۔) سترھویں دلیل:۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: "لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ “ (الواقعة: ۸۰) که قرآن مجید کے مطالب و معانی اور حقائق و معارف انہی پر کھولے جاتے ہیں جو پاک اور مطہر ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت امام ربانی مجددالف ثانی اپنے مکتوبات میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ