مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 454
454 ۴۔عبدالرحیم ابن نواب محمد علی خان کے متعلق۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۱۹) ۵۔دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء میں چراغ دین جمونی کے طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔سو وہ ۴ را پریل ۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے بمرض طاعون ہلاک ہوا۔کیا یہ کم نشان ہے؟ ۶۔پیشگوئی زلزلہ کا دھکا۔عَفَتِ الرِّيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا۔“ یہ چارا پریل ۱۹۰۵ء کو کانگڑہ والے زلزلہ کے نام سے واقع ہوا۔ے۔آہ نادر شاہ کہاں گیا۔“ (الهام ۳ رمئی ۱۹۰۵ء شائع شده اخبار بدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۷ /اپریل ۱۹۰۵ء صفر نمبرا۔و تذکرہ صفحہ ۴۶۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء) اس الہام میں بتایا گیا تھا کہ (۱) کسی ملک میں ایسے ایسے عظیم الشان انقلابات وقوع پذیر ہونگے کہ ہر طرف سے نادر خان کو ” المدد المدد کی پکار سے بلایا جائے گا اور جب لوگ اس کو نادر خان“ کہہ رہے تھے خدا اس کو نادر شاہ کے نام سے پکارتا تھا۔اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ نادر خاں“ تخت پر متمکن ہو کر نا درشاہ“ کے لقب سے حکومت کرے گا۔۲۔پھر اس الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ آخر کار وہ نادر شاہ کسی ہیبت ناک اور فوری حادثہ کے باعث طرفۃ العین میں صفحہ ہستی سے ناپید ہو جائیگا اور اس کا یہ قتل ایسے وقت میں ہوگا جبکہ ملک کو اس کی خدمات کی اشد ضرورت ہوگی اور چاروں طرف سے آوازیں آئیں گی کہ آہ ! نادرشاہ کہاں گیا۔“ چنانچہ اس پیشگوئی کا پہلا حصہ ۱۹۲۹ء میں پورا ہوا۔جبکہ افغانستان میں امان اللہ کی حکومت کا تختہ الٹنے اور بچہ سقہ کے ہاتھ سے حکومت لے لینے کے لئے ” نادر خاں“ کو فرانس سے بلایا گیا۔اور نادر خاں“ کابل میں آکر نادرشاہ“ کے لقب سے سر میر آرائے سلطنت ہوا۔اسی وقت جماعت احمدیہ کی طرف سے جہاں اس الہام کے ایک پہلو کے پورا ہونے پر اظہار مسرت کیا گیا وہاں ساتھ ہی اس الہام کے دوسرے پہلو کی طرف بھی صاف طور پر اشارہ کر دیا گیا تھا۔چنانچہ نادر خاں کے قتل سے % 3 سال پہلے لکھا گیا کہ:۔دوسرے مفہوم میں ایک ایسا خیال جھلک رہا ہے کہ موسوم ( نادر شاہ) کو کوئی خطرناک مصیبت پیش آئے گی اور اس کے نقصان پر بہت رنج و غم محسوس کیا جائیگا۔او پر لکھا جاچکا ہے کہ آہ! نادر شاہ کہاں گیا کا ایک اور مفہوم بھی ہو سکتا ہے۔اس لئے ممکن ہے کہ یہ الفاظ کسی اور موقع پر کسی