مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 409 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 409

409 (اقتراب الساعة از نواب نورالحسن خان صاحب مطبع مفید عام الكامنة فی آگر صفحه ۱۶۳) (روح المعانی سورۃ الاحزاب جواب :۔یہ حدیث بے اصل ہے زیر آیت نمبر ۳۹،۳۸) (اقتراب الساعة صفحه ١٦٣) لکھا ہے: یہ حدیث إِنَّ جِبْرِيلَ لَا يَنزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلْعَمْ - بے اصل ہے۔حالانکہ کئی حدیثوں میں آنا جبریل کا آیا ہے۔“ ( اقتراب الساعة از نواب نورالحسن خان صاحب مطبع مفید عام الكامنة فی آگره صفه ۱۶۳) ۲۔حضرت علامہ ابن حجر فرماتے ہیں :۔وَ مَا اشْتَهَرَ أَنَّ جِبْرِيلَ لَا يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ فَهُوَ لَا أَصْلَ لَهُ روح المعانی الاحزاب آیت نمبر ۳۸، ۳۹ ونج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہانی بھوپال صفحه ۴۳۱ ) پس یہ روایت بھی حجت نہیں۔شرک فی الرسالت کا الزام احراری محض عوام کو دھوکہ دینے کی نیت سے کہا کرتے ہیں کہ ہم ” شرک فی الرسالت برداشت نہیں کر سکتے۔جواب:۔(۱) شرک فی الرسالة “ کے قابل اعتراض ہونے کی اصطلاح تم نے کہاں سے نکالی ہے؟ کیونکہ شرک تو اسلامی اصطلاح میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو ہم پلہ یا حصہ دار ماننے کا نام ہے کیونکہ وہ واحد ہے، لیکن رسالت تو ایک ایسا انعام الہی ہے جس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی شریک ہیں۔پس اگر شرک فی الرسالۃ کوئی قابلِ اعتراض چیز ہے تو ہر مسلمان ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ اس شرک فی الرسالة کا اقرار کرتا ہے۔تم خود مسیح کی آمد ثانی کے قائل ہو جو نبی اللہ کا ہے۔پھر شرک فی الرسالة کی غیرت کہاں گئی۔قرآن مجید میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کو وادی طور میں اِنِّي أَنَا رَبُّكَ ( طه : ۱۳) کی صدا لگائی اور دربار فرعون میں جانے کا حکم ملا تو حضرت موسی نے یہ دعا کی۔وَاجْعَل لي وزيرا مِنْ أَهْلِى هُرُونَ أَخي الشدُدْية آزرى (طه: ۳۲۳۰) اس آیت کا تر جمہ تفسیر قادری المعروف بہ تفسیر حسینی اردو وفاری سے نقل کیا جاتا ہے۔