مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 401 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 401

401 بحث اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی تمہارا بیان کردہ مفہوم غلط ہے۔بلکہ تم حدیث کا جو مطلب لیتے ہو اور اگر وہ مطلب لیا جائے تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے کیونکہ تمہاری تشریح کے مطابق ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر اینٹ کی جگہ پر کر دی۔گویا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لاتے تو نبوت کے محل میں ایک موری یا سوراخ باقی رہ جاتا حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو خدا نے فرمایا ہے۔لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك (نزهة النظر في شرح نخبۃ الفکر صفحہ ۱۳ حاشیه از محمد عبد اللہ ٹونکی و موضوعات کبیر از ملا علی قاری صفحہ ۸۱،۵۹) کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں تمام جہان کو پیدا نہ کرتا۔پس اس حدیث سے وہ مفہوم مراد نہیں ہے جو مولوی بیان کرتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ اس حدیث میں شریعت کے محل کا ذکر ہے جس کو نبی تعمیر کرتے ہیں پہلے انبیاء اپنے اپنے وقت میں ضرورت کے مطابق احکام شریعت لاتے رہے اور اس محل کی تکمیل کا سامان جمع ہوتا رہا۔چونکہ عقل انسانی ارتقاء کے بلند ترین مقام پر ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔اس لیے وہ شریعتیں ناقص تھیں اور ان میں کمی باقی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس وقت تکمیل عقل انسانی ہو چکی تھی اور احکام شریعت کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو چکی تھی۔اس لیے خدا تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔آپ نے آکر پہلی شریعتوں کو بھی قرآن میں شامل کر لیا اور جو کمی باقی تھی اس کو بھی پورا کر کے شریعت کے محل کو پورا کر دیا۔قرآن مجید میں ہے فِيهَا كُتُبُ قَيْسَةٌ ( البينة: (۴) گویا اس میں سب پہلی شریعتیں بھی شامل ہیں عقلِ انسانی کی وہ ترقی جو عیسی علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کے زمانہ میں ہوئی۔اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اینٹ کی جگہ (موضع لبنة ) قرار دیا ہے۔الجوب الثالث : اس حدیث میں الانْبِيَاءُ مِنْ قَبْلِی کا فقرہ بتاتا ہے کہ اس میں آنحضرت نے صرف پہلے انبیاء ہی کا ذکر کیا ہے۔بعد میں آنے والے انبیاء کا ذکر مقصود نہیں۔الجواب الرابع :۔اب جبکہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ اینٹ کہاں لگے گی؟ جہاں سے ان کے لیے گنجائش نکالو گے وہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے بھی گنجائش ہوگی۔اگر کہو کہ عیسا علیہ السلام ابھی زندہ ہیں تو گویا معلوم ہوا کہ عیسی علیہ السلام والی اینٹ نہیں لگی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمانا چاہیے تھا کہ دو اینٹوں کی جگہ باقی ہے۔ایک میں اور ایک عیسی بن مریم۔پس وفات مسیح ثابت ہے۔