مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 396 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 396

396 جواب :۔حضرت مسیح موعود نے یہ کہاں تحریر فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے؟ محض کسی قول کا نقل کرنا تو اس امر کو مستلزم نہیں کر نقل کرنے والا اس قول کو مستند اور ثقہ بھی سمجھتا ہے۔الجواب ۲:۔اس حدیث کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 66 تھا لَوْ لَمْ أُبْعَثْ لَبُعِثْتَ يَا عُمَرُ ( مرقاه شرح مشکوۃ جلد۵ صفحه ۵۳۹ ، وبرحاشیہ مشکوۃ مجتبائی باب مناقب۔یہ حدیث صحیح ہے۔تعصبات سیوطی صفحہ ۲۷) ب - لَو لَمْ أبْعَثْ فِيكُمْ لَبُعِثَ عُمَرُ فِيكُمُ ( كنوز الحقائق صفحه ۱۰۳ صفحه ۱۵۹ جلد۲) یعنی اگر میں تم میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر تم میں مبعوث ہوجا تا۔چونکہ آنحضرت صلعم نبی ہوکر مبعوث ہو گئے اس لیے عمر نبی نہ بنے۔تیسری حدیث - كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نبي الخ۔(بخاری کتاب الا نبیاء باب ماذكر عن نبی اسرائیل ) الجواب نمبرا: - سَيَكُونُ خُلَفَاءَ کے الفاظ جو حدیث میں آئے ہیں صاف بتا رہے ہیں کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد قریب کا زمانہ مراد لیا ہے۔جیسا کہ لفظ ”س“ سے ظاہر ہے جو مستقبل قریب کے لئے آتا ہے یعنی میرے معا بعد خلفاء ہوں گے اور معابعد نبی کوئی نہیں ہوگا۔۲۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں قاعدہ یہ تھا کہ ان میں ہر نبی بادشاہ بھی ہوتا تھا جب کوئی نبی مرتا تو اس کا جانشین بھی بادشاہ نبی ہوتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بادشاہت اور نبوت جمع نہیں ہوگی۔(مشکوۃ كتاب الرقاق باب الا نذار والتحذير ) چنانچہ دیکھ لو۔ابو بکر، عمر، عثمان علی بادشاہ (خلیفے ) تو ہوئے مگر نبی نہ تھے اور جو نبی ہوا ( یعنی مسیح موعود ) وہ بادشاہ نہ ہوا۔۳۔اس حدیث سے یہ نکالنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا قطعاً غلط ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کو مسلم کی حدیث میں نبی اللہ“ کر کے پکارا ہے۔(دیکھو مشکوۃ صفحہ ۴۶۹ مجتبائی ومشکواۃ اصح المطابع في ٢٧٣ ومسلم كتاب الفتن واشراط الساعة باب ذكر الدجال ونزول مسيح) ۴:۔یہ حدیث صرف آنحضرت اور مسیح موعود کے درمیانی زمانہ کے لیے ہے کیونکہ آنحضرت