مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 388
388 (البحر المحيط زیر آیت المائدہ:۱۲) کہ فترة سے مراد وہ زمانہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان گزرا۔۳۔حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نَبِيٌّ أَتَانَا بَعْدَ يَاسِ وَفَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ وَالْأَوْثَانُ فِي الْأَرْضِ تُعْبَدُ ( شرح دیوان حسان قافیه الدال ) یعنی ہمارے پاس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاس اور فترة کے بعد آئے ہیں (یعنی ایسے وقت جب کہ کافی عرصہ نبی کو مبعوث ہوئے گزر چکا تھا) اور حالت یہ ہے کہ زمین میں بتوں کی پرستش کی جاتی ہے۔۴۔یہ آیت امکانِ نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس خیال سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ایک لمبے عرصہ تک کسی نبی کے مبعوث نہ ہونے کی وجہ سے لوگ یہ خیال نہ کرنے لگ جائیں کہ شاید خدا تعالیٰ نے اب نبی بھیجنا ہی بند کر دیا ہے اللہ تعالیٰ نے نبی بھیج دیا۔ان تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ (المائدة :۲۰) تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔بعینہ یہی صورت حال اب بھی ہے۔تر دید دلائل انقطاع نبوت از روئے حدیث پہلی حدیث : لَا نَبِيَّ بَعْدِي ( بخاری کتاب الانبیاء باب ما ذكر عن بنی اسرائیل) الجواب نمبر :۔اس حدیث کی دوسری روایت ہے۔قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عَلِيُّ اَمَا تَرْضَى اَنْ تَكُونَ مِنِّي كَهَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ اَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ - (طبقات کبیر لابن سعد جلد ۳ صفحه ۲۵ بیروت ۱۹۵۷ء) کہ آنحضرت نے فرمایا تھا کہ اے علی کیا تو خوش نہیں کہ تو مجھے ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ہارون مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد تو نبی نہیں ہوگا۔لا نَبِيَّ بَعْدِی “ کی تشریح کر دی کہ آنحضرت صلعم کا خطاب عام نہیں بلکہ خاص حضرت علیؓ سے ہے۔الجواب نمبر ۲:۔اسی بخاری میں آنحضرت صلعم کی بعینہ ایسی ہی ایک اور حدیث ہے؟ ”عنُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلْعَمُ إِذَاهَلَكَ كِسْرى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَ إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ “ (بخاری کتاب الایمان والنذور باب كيف كانت يمين النبي صلى الله عليه وسلم ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسری مرے گا تو اس کے بعد کوئی کسری