مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 348 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 348

348 جواب:۔حدیث نبوی کے مقابلہ میں امام نووی کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے۔پھر یہ کہ نووی نے سب سے بڑا اعتراض یہ کیا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس حدیث کے معنی کیا ہیں۔اولا دنوح نبی نہ تھے اس کا جواب ایک تو ملاعلی قاری نے دیا ہے جو نقل ہو چکا۔دوسرا جواب علامہ شوکانی نے درج کیا ہے وہ یہ ہے:۔لَهُ تَاوِيلُه۔وَهُوَ عَجِيْبٌ مِنَ النَّوَوِى مَعَ وَرُودِهِ عَنْ ثَلاثَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَ كَأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرُ فوائد المجمو عدا محمد بن علی شوکائی ذکر ابراہیم ما شردار الکتب العربی بیروت لبنان الطبعة الاولی ۱۹۸۶ء) کہ نووی کا یہ اعتراض تعجب خیز ہے حالانکہ اس حدیث کو تین صحابیوں نے بیان کیا ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ نو وی کو اس حدیث کے اصل معنی سمجھ نہیں آئے۔نوٹ نمبر ۲:۔یہ کہنا کہ لو محال کے لئے آتا ہے صریکا دھوکا ہے کیونکہ ”لو “ جس جملہ میں آئے اس کی شرط تو محال ہوتی ہے مگر جز اممکن ہوتی ہے جیسا کہ لَوْ كَانَ فِيهِمَا أَلِهَةً إِلَّا الله لَفَسَدَنَا (الانبياء: (۳۳) اگر خدا کے سوا اور بھی خدا ہوتے تو دونوں (زمین و آسمان ) خراب ہو جاتے۔اب خدا کے سوا اور خدا کا ہونا تو ممکن نہیں مگر زمین میں فساد کا ہونا ممکن ہے اسی طرح لو عَاشَ إِبْرَاهِيمُ والی حدیث میں ابراہیم کا زندہ رہنا محال ہے مگر اس کا نبی بنا ممکن۔تیسری حدیث: - وَرَوَى الْبَيْهَقِى بِسَنَدِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسِ إِنَّهُ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ تَتِمُّ رَضَاعَهُ وَ لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔(تاریخ ابن عساکر جلد اصفحه۲۹۵ سطره مطبوعہ دارالميسرة بیروت) چوقی حدیث : وَ عَنْ جَابِرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَرْفُوعًا لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ نَبِيًّا۔( اصفحه۲۹۵ مصنف حجر تاریخ ابن عساکر جلد اصفحه ۲۹۵ مطبوعہ دار امیرة بیروت) نیز الفتاوی الحدیثیه مصنف امام ابن حجر ایٹمی صفحه ۱۵ مطبوعه مصر) پانچویں حدیث : فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللهِ عِیسَی وَ أَصْحَابُهُ (مسلم کتاب الفتن باب صفة الدجال ) آنے والے مسیح کو نبی اللہ قرار دیا ہے، پہلا مسیح فوت ہو چکا اور اس کا حلیہ آنے والے مسیح کے حلیے سے مختلف ہے لہذا یہ آنے والا بخاری کی حدیث امامُكُمْ مِنْكُمُ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم) اسی امت میں سے نبی ہونا تھا۔چھٹی حدیث:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا أَنْ