مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 344 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 344

344 آپ کی امت میں سے نہ ہو۔۴۔یہ حدیث جیسا کہ حضرت ملا علی قاری کی مندرجہ بالا تحریر سے ثابت ہے تین طریقوں سے مروی ہے یعنی صرف حضرت ابن عباس ہی کی مندرجہ بالا روایت نہیں بلکہ حضرت ابن عباس کے علاوہ حضرت انس اور حضرت جابر سے بھی مروی ہے۔حضرت حافظ ابن حجر العسقلانی " بحوالہ حضرت سیوطی فرماتے ہیں کہ حضرت انس والی روایت بھی صحیح ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: وَبَيَّنَ الْحَافِظُ السُّيُوطِئُ أَنَّهُ صَحْ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ لَا أَدْرِكْ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔“ (الفتاوى الحديثية مصنفہ حضرت امام ابن حجر ہیثمی مطلب ماورد فی حق ابراہیم ابن نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فحه ۱۵۰ مطبوعہ مصر ) یعنی حضرت امام سیوطی نے بیان کیا ہے کہ حضرت انس سے صحیح روایت ہے کہ آپ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے سوال کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ (اگر وہ زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا ) تو حضرت انسؓ نے فرمایا یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن خدا کی رحمت ہو ابراہیم پر کہ اگر وہ زندہ رہتے تو یقیناً نبی ہوتے۔یہ روایت تیسرے طریقے سے حضرت جابر سے مروی ہے جیسا کہ حضرت امام سیوطی فرماتے ہیں: وَرَوَاهُ ابْنُ عَسَاكِرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " الفتاوی الحدیثیہ مصنفہ امام ابن حجر میشمی مطبوعه مصری صفحه ۱۵۰) پس یہ حدیث تین مختلف طریقوں سے اور تین مختلف صحابیوں سے مروی ہے۔اس لئے اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔اسناد اس حدیث کی اسناد میں چھ روای ہیں :۔ا۔عبدالقدوس بن محمد۔اس کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی کی کتاب تہذیب التہذیب میں جو اسماء الرجال کی بہترین کتاب ہے لکھا ہے:۔" قَالَ النَّسَائِي ثِقَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حَبَّانٍ فِي الثَّقَاتِ (تهذیب التهذیب از حافظ ابن حجر عسقلانی حرف عین زیر لفظ عبدالقدوس بن محمد)