مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 343
343 نہ کہ انقطاع نبوت کے باعث اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خَاتَمُ النَّبِيِّينَ کا مطلب یہ سمجھتے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو آپ کو یہ فرمانا چاہیے تھا لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَمَا كَانَ نَبِيًّا لانِّى خَاتَمُ النَّبِيِّينَ کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تب بھی نبی نہ ہوتا کیونکہ میں خاتم النبین ہوں۔جیسے کوئی آدمی کہے کہ اگر میرا بیٹا زندہ رہتا تو بی۔اے ہو جاتا۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بی۔اے کی ڈگری ہی بند ہے؟ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی۔اے کی ڈگری تو مل سکتی ہے لیکن اس کی موت اس کے حصول میں مانع ہوئی یہی مطلب اس حدیث کا ہے کہ نبوت تو مل سکتی ہے مگرا براہیم کو چونکہ وہ فوت ہو گیا اس لئے اسے نہیں مل سکی۔حدیث کی صحت کا ثبوت ا۔یہ حدیث ابن ماجہ میں ہے جو صحاح ستہ میں سے ہے۔۲۔اس حدیث کے متعلق شہاب علی البیضاوی میں لکھا ہے :۔اَمَّا صِحَّةُ الْحَدِيثِ فَلَا شُبُهَةَ فِيْهَا لَانَّهُ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَغَيْرُهُ كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ حَجَرٍ (حاشية الشهاب على البيضاوى جلد 2 صفحہ ۷۵ ابحث في اطلاق الاب صلى الله عليه وسلم مطبوعہ دار صادر بیروت ) کہ اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور دوسروں نے بھی جیسا کہ حافظ ابن حجر نے ذکر کیا ہے۔۳۔ملاعلی قاریؒ جیسا محدث لکھتا ہے: لَهُ طُرُقْ ثَلَاثَةٌ يُقَوَّى بَعْضُهَا بِبَعْضٍ ) موضوعات کبیر صفحه ۲۹۱ زیر حدیث ۳۷۹ المکتبة الاثر یہ سانگلہ ہل ضلع شیخو پورہ) کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے مگر یہ موضوع نہیں کیونکہ یہ تین طریقوں سے مروی ہے اور اس کا ہر ایک طریقہ دوسرے طریقہ سے تقویت پکڑتا ہے انہوں نے اس کو اس قدر صحیح قرار دیا ہے کہ آیت خَاتَمُ النَّبِيِّينَ کی اس لئے تاویل کی ہے کہ وہ اس حدیث کے معارض نہ ہو چنانچہ فرماتے ہیں:۔فَلا يُنَاقِضُ قَوْلُهُ تَعَالَى وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِه ( موضوعات کبیر صفحه ۲۹۲ زیر حدیث ۳۷۹ المکتبة الاثر یہ سانگلہ ہل ضلع شیخو پوره ) کہ یہ حدیث خاتم النبین کے مخالف نہیں ہے کیونکہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں آ سکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کر