مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 333 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 333

333 اصلاح کرے گا وہی امن میں ہوگا۔دوسرا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ اس آیت اتُيَانُ الرُّسُلِ اَمْرٌ جَائِزٌ غَيْرُ وَاحِبٍ “ ( بیضاوی زیر آیت لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةٌ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ الاعراف : ۳۵ نیز تفسیر ابی السعود بر حاشیہ تفسیر کبیر زیر آیت فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ جلد۲ صفحه ۲۹۹ مصری ) یعنی يُبَنِي أَدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسولوں کا آنا جائز ہے۔اگر چہ ضروری نہیں کہ رسول ضرور ہی آئیں۔بہر حال امکان نبوت کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔پانچویں آیت:۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة: ٧،٦ ) که اے اللہ ! ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنی نعمت نازل کی ، گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو تو نے عطا فرما ئیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں؟ قرآن مجید میں ہے: يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاء وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا (المائدة: ٢١) موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔اے قوم! تم خدا کی اس نعمت کو یاد کرو۔جب اس نے تم میں سے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا، ثابت ہوا کہ نبوت اور بادشاہت دو نعمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کسی قوم کو دیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے اور دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی قبولیت کا فیصلہ فرما چکا ہے۔لہذا اس سے امت محمدیہ میں نبوت ثابت ہوئی۔چھٹی آیت:۔يَايُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا (المؤمنون: ۵۲) اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔یہ جملہ ندائیہ ہے جو حال اور مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور لفظ رُسُلُ بصیغہ جمع کم از کم ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اکیلے رسول تھے۔آپ کے زمانہ میں کوئی بھی اور رسول نہ تھا۔لہذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول آئیں گے۔ورنہ کیا خدا تعالیٰ وفات یافتہ رسولوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ اٹھو! اور پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔