مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 331
331 نہیں دیتی بلکہ کعبہ شریف خصوصاً اور دوسری اسلامی مساجد میں عموماً نماز پڑھنے کے لیے جانے والوں کو مخاطب کرتی ہے۔چنانچہ تفسیر حسینی میں خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲) کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔بعض مفسر اس بات پر ہیں کہ یہ خطاب عام ہے اور اکثر مفسر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے۔اس واسطے بنو ثقیف اور دوسری ایک جماعت عرب مشرکوں کی تھی کہ ان کے مرد اور عورتیں بر ہنہ طواف کرتی تھیں اور کپڑے اتار ڈالنے سے یہ فال لیتے تھے کہ گنا ہوں سے ہم بری ہو گئے اور بنو عامر احرام کے دنوں میں حیوان کھانے سے پر ہیز کرتے تھے اور تھوڑے سے کھانے پر قناعت کر کے اس فعل کو اطاعت جانتے تھے اور کعبہ کی تعظیم کا خیال باندھتے تھے۔مسلمانوں نے کہا کہ یہ تعظیم وتکریم کرنا ہم کو تو بہت سزا وار اور لائق ہے۔حق تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا اور ارشاد کیا کہ خُذُوا زِينَتَكُو اپنے کپڑے کہ ان کے سبب سے تمہاری زینت ہے عِندَ كُلِّ مَسْجِدِ نزدیک ہر مسجد کے جس کا تم طواف کرتے ہو یا جس میں تم نماز پڑھتے ہو۔تفسیر حسینی زیر آیت خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدِ الاعراف:۳۲) (ب) حضرت امام رازی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ قَبَائِلِ الْعَرَبِ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً۔اَلرِّجَالُ بِالنَّهَارِ وَالنِّسَاءُ بِاللَّيْلِ وَكَانُوا إِذَا وَصَلُّوا إِلَى مَسْجِدِ مِنَى طَرَهُوا ثِيَابَهُمُ وَآتُوا الْمَسْجِدَ عُرَاةً وَقَالُوا لَا نَطُوفٌ فِي ثِيَابِ أَصَبْنَا فِيهَا الذُّنُوبَ۔۔۔۔فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ يَا رَسُولَ اللهَ فَنَحْنُ اَحَقُّ اَنْ نَّفْعَلَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ أَيْ الْبِسُوا ثِيَابَكُمْ وَكُلُوا اللَّحْمَ۔( تفسير كبير رازى يبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُم الاعراف:۳۲) یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرب قبائل بباعث جاہلیت کے خانہ کعبہ کا طواف ننگے بدن کرتے تھے۔دن کو مرد اور رات کو عورتیں طواف کرتی تھیں۔اور جب وہ مسجد منی کے قریب پہنچتے تھے تو اپنے کپڑے اتار کر مسجد میں ننگے بدن آتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ ہم ان کپڑوں کے ساتھ کبھی طواف نہیں کریں گے جن میں ہم گناہ کرتے ہیں۔پھر جب اس بارے میں مسلمانوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہ حکم دیا کہ اپنے کپڑے پہنو اور گوشت کھاؤ۔( ج ) تفسیر بیضاوی میں ہے: