مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 320
320 استمرار تجددی کے لئے مندرجہ ذیل حوالجات ملاحظہ ہوں۔ا وَقَدْ تُفِيدُ الْإِسْتَمَرَارَ التَّجَدُّدِى بِالْقَرَائِنِ إِذَا كَانَ الْفِعْلُ مُضَارِعًا كَقَوْلِ طَرِيفِ اَوَكُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظَ قَبِيْلَةٌ بَعَثُوا إِلَى عَرِيْفَهُمْ يَتَوَسَّمُ کتاب قواعد اللغة العربية صفحه ۳۹ از رعنوان الكلام على الخبر) اور کبھی جب فعل مضارع ہو۔بعض قرائن سے استمرار تجددی کا بھی فائدہ دیتا ہے جیسا کہ طریف شاعر کا یہ شعر ہے جب کبھی عکاظ کے میدان میں کوئی قبیلہ آ کر اترتا ہے تو وہ اپنے بڑے آدمی کو میری طرف بھیجتے ہیں جو گھاس کی تلاش کرتا رہتا ہے یا جو میری طرف دیکھتا رہتا ہے یہاں يَتَوَسَّمُ مضارع ہے جس نے استمرار تجددی کا کام دیا ( یہی مضمون بتغیر الفاظ تلخیص المفتاح از محمد بن عبدالرحمن القزوینی صفحه ۲۰ سطر مطبع مجتبائی دہلی پر ہے ) ۲- تفسیر بیضاوی تفسیر سورة آل عمران رکوع ۴ زیر آیت إِنِّي أَعِيْدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ 66 الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ (آل عمران: ۳۷) لکھا ہے اُعِيُدُهَا فِي كُلِّ زَمَانٍ مُسْتَقْبِل لِعِي أَعِيدُ هَا میں استمرار تجد دی ہے اور آیت کے معنے یہ ہیں کہ میں اس کے لئے پناہ مانگتی ہوں۔ہر آنے والے زمانہ کے لئے۔گویا استمرار تجد دی میں زمانہ مستقبل بالخصوص پایا جاتا ہے۔اسی طرح آیت اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَكَةِ (الحج :۷۶) میں استمرار تجددی ہوسکتا ہے اور اس کے لئے قریبہ الرسل بصیغہ جمع اور فعل مضارع کا خدا کی طرف منسوب ہونا ہے ( استمرار میں تینوں زمانے شامل ہوتے ہیں۔کوئی زمانہ مستثنی نہیں ہوسکتا۔خصوصاً زمانہ مستقبل جس کا ہونا اس میں لازمی ہے) نوٹ۔اگر کوئی کہے کہ اگر استمرار تجددی تسلیم کر لیا جائے تو لازم آئے گا کہ ہر ایک سیکنڈ میں نبی اور رسول آتے رہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ استمرار کے لئے وقت اور ضرورت کی قید ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔كَانَا يَا كُنِ الطَّعَامَ (المائدة: ۷۶ ) کہ حضرت عیسی اور ان کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے۔" كَانَا يَا كُلان ماضی استمراری ہے ( کیونکہ یاکلان مضارع پر گانا داخل ہوا ) تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ تمام دن رات کھانا ہی کھاتے رہتے تھے۔یہاں استمرار کا مطلب یہ ہے کہ عند الضرورت کھانا کھاتے تھے۔اسی طرح اللَّهُ يَصْطَفِئُ کا مطلب ہے کہ عند الضرورت خدا تعالیٰ رسول بھیجتا رہے گا۔