مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 319
319 نبی کا نہ آنا سنت قدیمہ کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مکمل اور غیر محرف شریعت کی موجودگی میں نئی شریعت کا نہ بھیجنا ہی خدا کی سنت ہے جو اس وقت بھی جاری ہے لیکن کیا تم انکار کر سکتے ہو کہ اس وقت دنیا میں ضلالت و گمراہی اور بدعملی کا دور دورہ نہیں ؟ اگر ہے اور ضرور ہے تو پھر تمہاری تسلیم کردہ "سنت ارسال رسل“ کے مطابق اس زمانہ میں کوئی غیر تشریعی نبی کیوں نہیں آسکتا ؟ غیر احمدی :۔رُسل صیغہ جمع ہونے کا کیا یہ مطلب ہے کہ دس دس ہیں ہیں اکٹھے رسول آ ئیں؟ جواب: نہیں! بلکہ صیغہ جمع کا مفادصرف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالی صرف ایک ہی رسول نہیں بھیجے گا بلکہ وقتا فوقتا نبی بھیجتا رہے گا اور وہ رسول من حیث المجموع اتنے ہوں گے کہ ان پر صیغہ جمع اطلاع پائے۔غیر احمدی:۔صیغہ مضارع کبھی حال کے لئے اور کبھی استقبال کے لئے ہوتا ہے۔محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۴۶۳ طبع خانی ۱۹۸۹ء از مولوی محمد عبد الله معمار امرتسری) جواب:۔اس آیت میں استقبال کے لئے ہی ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو رسول واحد تھے۔ان پر رُسل صیغہ جمع کا اطلاق نہیں پاسکتا نیز ان کا اصطفاء تو اس آیت کے نزول سے کئی سال پہلے ہو چکا تھا۔نزول کے وقت تو نہیں ہو رہا تھا۔اس لئے یہاں مضارع حال کے لئے ہو ہی نہیں سکتا بلکہ بہر حال مستقبل کے لئے ہے۔اگر ” حال ماضی کے لئے ہوتا تو اس سے پہلے یا ما بعد کسی واقعہ ماضی کا ذکر ہوتا لیکن اس آیت سے پہلے بھی اور بعد بھی آخر سورۃ تک کسی واقعہ ماضی کی طرف اشارہ تک نہیں بلکہ سب جگہ موجود ہ مخالفین ہی سے خطاب ہے لیکن اگر واقعہ ماضی ہو تو اِنَّ اللَّهَ اصْطَفی‘ فرمایا ہوتا جیسے إِنَّ اللهَ اصْطَفَى أَدَم (آل عمران (۳۴) وغیرہ آیات ہیں پس یہ آیت امکانِ نبوت کے لئے نص قطعی ہے جس کا تمہارے پاس کوئی جواب نہیں۔نوٹ:۔بعض دفعہ مخالفین کہا کرتے ہیں کہ آیت ہذا میں ایک عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے رسول بھیجا کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ مضارع سے عام قاعدہ صرف ایک ہی صورت میں مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مضارع استمرار تجد دی کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن استمرار تجد دی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں زمانہ مستقبل بھی ضرور پایا جائے ہم مخالفین کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا استمرار تجد دی دکھا ئیں جس میں زمانہ مستقبل شامل نہ ہو صرف ماضی اور حال مراد ہو۔