مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 317 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 317

317 پہلی آیت مسئله امکان نبوت دلائل امکان نبوت از روئے قرآن مجید اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَكَةِ رُسُلًا وَ مِنَ النَّاسِ (الحج : ۷۶ ) کہ اللہ تعالیٰ چنتا ہے اور چنے گا فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے بھی۔اس آیت میں يَصْطَفى مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے لئے آتا ہے پس يَصْطَفیٰ کے معنی ہوئے چلتا ہے اور چنے گا اس آیت میں يَصْطَفیٰ سے مراد صرف حال نہیں لیا جا سکتا کیونکہ الف۔آیت کی ترکیب اصل میں اس طرح ہے۔اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَاللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ النَّاسِ رُسُلاً کہ اللہ فرشتوں میں سے بھی رُسُل چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی رُسُل چلتا ہے۔لفظ رُسُل جمع ہے اس سے مراد آنحضرت (واحد) نہیں ہو سکتے۔پس ماننا پڑے گا کہ آنحضرت کے بعد رسالت کا سلسلہ جاری ہے اور يَصْطَفى مستقبل کے لئے ہے۔نوٹ:۔بعض غیر احمدی رُسل بصیغہ جمع کا اطلاق واحد پر ثابت کرنے کے لئے وَإِذَا الرُّسُلُ أقتَتْ (المرسلات : ۱۲) والی آیت پیش کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں رُسل کو بمعنی رسول واحد لیا ہے سو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ شہادۃ القرآن کی عبارت محولہ میں حضرت مسیح موعود نے جمع کا ترجمہ واحد نہیں کیا، بلکہ جمع ہی رکھا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس نے تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۴۴ و ۲۴۵ پر اس آیت کا الہامی ترجمہ رقم فرمایا ہے۔وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضاء و قدر کا اندازہ جو مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آجائے گا۔۔۔۔پس یہی معنے آیت وإِذَا الرُّسُلُ أَقتَتْ کے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا اور یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسولوں کی آخری میزان ظاہر کرنے والا مسیح موعود ہے“ پس یہ عبارت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اس آیت میں رُسل سے