مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 316
316 عدم رجوع موتی از احادیث ا قَالَ يَا عَبْدِى تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأَقْتَلُ فِيْكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّى أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا في سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا۔الآية ( رواه الترمذى بحوالہ مشکواة كتاب المناقب باب جامع المناقب ) کہ اللہ تعالیٰ نے شہید جایز کے باپ کو فرمایا کہ کوئی آرزو کر۔اس نے کہا، اے میرے رب مجھے دنیاوی زندگی بخش کہ تیرے راستہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں۔فرمایا کہ یہ تو میرا قانون ہو چکا ہے کہ یہاں سے دنیا کی طرف نہیں لوٹیں گے۔وَ قُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ۔۔۔اِذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمُ ( رواه مسلم بحوالہ مشکوة مجتبائى باب ما يحل اكله وما يحرم ) کہ ایک آدمی فوت شدہ کے متعلق صحابہ نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کی کہ حضور ! دعا فرمائیں کہ یہ زندہ ہو جائے تو آپ نے فرمایا۔تمہیں چاہیے کہ اب اس کے لئے دعائے مغفرت کرو اور دفن کر دو۔اس حدیث سے صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ اس دنیا میں زندہ کر کے نہیں بھیجتا، انبیاء بھی ایسا نہیں کر سکتے۔احباب غور کریں کہ اگر حضرت عیسی فی الواقعہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے تو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہ کیا؟ محض اس لئے کہ خدا کے قانون کے برخلاف ہے۔هَذَا هُوَ الْمُرَادُ۔عدم رجوع موتی پر اجماع امت ہے کیونکہ کسی حدیث اور تفسیر اور فقہ وغیرہ میں کسی مسلمان نے ایسے احکام بیان نہیں کئے کہ اگر مردہ دوبارہ لوٹ آئے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ بیوی، مال وغیرہ اس کو ملے گا یا نہیں ؟ پس شریعت کے باوجود مکمل ہونے کے اور فقہاء کا بھی اس کا ذکر نہ کرنا صاف بتاتا ہے کہ یہ عقیدہ ہی باطل ہے۔وهُوَ المقصود۔