مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 304
304 اس راوی کی روایت بالکل غیر محفوظ ہوتی ہے۔یہ اپنے نسب اور روایات کرنے اور سند دینے میں مجہول تھا اور اس کی حدیث نہ مستند ہوتی ہے نہ ہی درست۔یہ تو تمہاری پہلی حدیث کا حال ہے باقی رہی دوسری روایت ( حلیہ بوقت نزول ) سوده بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی شعبہ بن حجاج واسطی بصری ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے۔كَانَ يُخْطِئُ فِي أَسْمَاءِ الرِّجَالِ كَثِيرًا (تهذيب التهذيب ذكر شعبه بن حجاج واسطی بصری ) کہ عجلی کے نزدیک یہ راوی اسماء الرجال میں غلطی کیا کرتا تھا اور یہی خیال دار قطنی کا ہے۔اس دوسری روایت کا دوسرا راوی عبید اللہ بن معاذالعمیری ہے سو اس کے متعلق ابن معین کہتے ہیں۔ابنُ مُمَيِّنَةٍ وَ شَهَابٌ وَ عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ مَعَاذٍ لَيْسُوا أَصْحَابُ حَدِيثٍ لَيْسُوا بشَيْءٍ کہ ابن ممینہ اور شہاب اور عبید اللہ بن معاذ تینوں علم وحدیث نہ جانتے تھے اور نہ یہ راوی کسی حیثیت کے ہیں۔(تهذیب التهذیب حرف العين زير لفظ عبيدالله بن معاذ) پس جب سابقہ مسیح کا حلیہ جس حدیث میں بتایا گیا ہے وہی ضعیف ہے اور اسی طرح نزول والی حدیث بھی۔تو اندرین حالات اس مزعومہ یگانگت کو دلیل ٹھہر انا عبث ہے۔حیات مسیح کی اٹھارویں دلیل کیا حضرت موسی زندہ ہیں؟ غیر احمدی۔حضرت مرزا صاحب نے نورالحق صفحہ ۵۰ پر تحریر فرمایا ہے کہ حضرت موسی کی نسبت قرآن مجید میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے۔پس ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کے آسمان پر زندہ ہونے پر ایمان لائیں۔(محمدیہ پاکٹ بک از محمدعبداللہ معمار امرتسری صفحه ۶۱۰ مطبع طفیل آرٹ پرنٹرز لاہور ناشر المکتبۃ السلفیہلا ہور نمبر۲ طبع ثانی اپریل ۱۹۸۹ء) جواب۔الف :۔اسی نورالحق میں تمہاری محولہ بالا عبارت سے سات ہی سطر میں آگے لکھا ہے وَمَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا تُوُفِّيَ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِ عِيسَى الرُّسُلُ “ اور اس کا ترجمہ بھی اسی جگہ درج ہے کہ اور کوئی نبی ایسا نہیں جو فوت نہ ہوا ہو اور حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں“۔(نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۷۰ ) پس جہاں تک حضرت موسی کی جسمانی وفات کا تعلق ہے اس کا فیصلہ تو اس جگہ پر موجود ہے