مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 287
287 اس لئے ابھی تک انہوں نے کھل کی عمر میں کلام نہیں کیا۔لہذا آسمان سے واپس آ کر وہ کھل میں بھی کلام کریں گے۔جواب:۔گھل کے معنی لغت سے ۳۰ سے ۴۰ سال کی عمر کے مجمع الجار جلد ۳ صفحہ ۲۳۶ ز میر لفظ گھل ) بقول تمہارے جب وہ ۳۳ سال کی عمر میں اٹھائے گئے تو تین سال انہوں نے گھل میں بھی کلام کر لیا۔واپس لانے کی کیا ضروت ہے۔۲۔ہم تو احادیث صحیحہ کی بناء پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ۱۲۰ سال تک زندہ رہے، لہذا ان کا گھل کی عمر میں بھی کلام کرنا ثابت ہو گیا۔حیات مسیح کی چھٹی دلیل وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (ال عمران: ۴۹) الكتاب اور الحكمة سے قرآن میں ہر جگہ قرآن اور حدیث مراد ہے۔ثابت ہوا کہ خدا تعالی عیسی کو قرآن وحدیث سکھائے گا۔آمدثانی ثابت۔جواب:۔یہ قاعدہ ہی غلط ہے، قرآن کریم میں ہے فَقَدْ أَتَيْنَا آلَ إِبْرَهِيْمَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (النساء: ۵۵) لہذا یہ تمہارا خود ساختہ قاعدہ غلط ہے۔حضرت امام فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔الْمُرَادُ مِنَ الْكِتبِ تَعْلِيمُ الْخَطِ وَالْكِتَابَةِ ثُمَّ الْمُرَادُ مِنَ الْحِكْمَةِ تَعْلِيمُ الْعُلُومِ وَ تَهْذِيبُ الاخلاق ( تفسیر کبیر زیر آیت وَرَسُولاً إلى بني اسراءيل - آل عمران:۴۹) یعنی ( تمہاری پیش کر دہ آیت میں ) کتاب سے مراد خط و کتابت ( یعنی لکھنا پڑھنا ) اور حکمت سے مراد علوم روحانی واخلاقی ہیں۔حیات مسیح کی ساتویں دلیل وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاوِيْلَ عَنْكَ (المائدة :(1) یعنی اے عیسی جب میں نے بنی اسرائیل کا ہاتھ تجھ سے روک لیا، اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی کو یہودیوں کے ہاتھ لگے ہی نہیں۔اگر یہ مانا جائے کہ وہ صلیب پر لٹکائے گئے اور ان کے ہاتھوں سے خون بہا اور پھر اس قدر مصیبتیں جھیلنے کے بعد صلیب پر سے زندہ اتارے گئے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔جواب:۔گف ، عَنْ کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ سراسر غلط ہے۔قرآن مجید میں ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ (المائدة: ۱۲) کہ اے مسلمانو ! تم خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جبکہ