مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 279 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 279

279 جواب نمبر ۳:۔ساعت سے مراد ہلاکت بنی اسرائیل کی گھڑی بھی ہوسکتی ہے۔جواب نمبر ۴:۔اگر فی الواقعہ یہ معنی درست ہوتے جو ہمارے دوست کرتے ہیں تو اگلے حصہ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا (الزخرف: ۶۲) کالا نا لغو بن جاتا ہے کیونکہ یہ بات معقولیت سے بعید ہے کہ ابھی وہ نشانی آئی بھی نہیں مگر خدا تعالیٰ آنحضرت کے منکروں کو فرماتا ہے کہ تم اس میں شک نہ کرو۔ظاہر ہے کہ جب ابھی نشانی نے ایک نا معلوم مدت کے بعد آنا ہے تو ان کوشک سے ابھی کس بنا پر روکا جا تا ہے۔پس معلوم ہوا کہ اس جگہ مسیح قیامت کی نشانی ہونے کا تذکرہ نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید کو قیامت کی نشانی ٹھہرایا گیا ہے ورنہ یہ حصہ بے معنی بنتا۔جواب نمبر ۵:۔فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا کے بعد ہے وَاتَّبِعُونِ کہ میری پیروی کرو۔اگر قیامت کی نشانی مسیح تھے، تو اس کی مناسبت میں یہ فرمانا چاہیے تھا کہ تم اس کی پیروی کرنا۔یہ کہنے کے کیا معنی کہ میری اتباع کرو۔اس میں یہ کہہ کر کہ میری پیروی کرو، صاف بتا دیا کہ کوئی مسیح ناصری نہ آئے گا بلکہ تم اسے مسلمانو ! خود مسیح بنو اور اس کا طریق یہ ہے کہ تم میری اتباع کرو۔لطیفہ: یہ متنازعہ فیہا آیت سورۃ زخرف کی ہے جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ میں چونکہ عِلْمٌ لِلسَّاعَةِ ہیں اس لئے وہ ضرور قیامت سے پیشتر تشریف لائیں گے لیکن اگر مسیح کو عِلْمٌ لِلسَّاعَةِ مان بھی لیا جاوے تب بھی آپ اُمتِ محمدیہ میں نہیں آسکتے۔کیونکہ اس سورۃ کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (الزخرف: ۸۶) کہ وہ عِلمُ السَّاعَة جسے تم دوبارہ زمین پر اتار رہے ہو وہ اب اللہ کے پاس بیٹھا ہے وہ تو تمہارے پاس ہرگز نہ آئے گا ہاں تم ہی اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔پس اس کی انتظار فضول ترک کر دو۔حیات مسیح کی تیسری دلیل وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (النساء:۱۲۰) ترجمہ:۔اور کوئی اہل کتاب (یہودی) نہیں مگر وہ حضرت عیسی پر ضرور ایمان لائے گا اس کی موت سے پیشتر ، یعنی حضرت عیسی کے مرنے سے پہلے سب یہودایمان لائیں گے۔چونکہ فی زماننا وہ سب ایمان نہیں لا رہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ آپ اسی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں تشریف لا کر کفار سے منوائیں گے۔جواب:۔غیر احمدیوں کا مندرجہ بالا استدلال بہ ایں وجوہ باطل ہے۔