مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 268
268 بِلَفْظِ لَهُ مَعْنَيَانِ اَحَدُهُمَا ثُمَّ بِضَمِيرِهِ الْأَخَرَ اَوْ يُرَادُ بِاحَدِ ضَمِيْرَيْهِ اَحَدُهُمَا ثُمَّ بِالْآخَرِ الأخَرَ (تلخيص المفتاح صفحه ال طبع المجتبائى الواقع في بلدة دهلی ) کہ ایک لفظ جو ذ و معنی ہو اس کی طرف دو ضمیریں پھیر کر اس سے دو الگ الگ مفہوم مراد لینا۔مثالیں اوپر درج ہیں۔پھر بھی اگر کوئی کہے کہ عیسٹی تو جسم اور روح دونوں کے مجموعہ کا نام ہے پھر تم اکیلی روح کا رفع کیوں مراد لیتے ہو؟ تو اول تو اسے کہنا چاہیے کہ کسی کا نام مختلف حیثیتوں سے ہوتا ہے مثلاً کہیں زید سیاہ ہے تو صرف جسم مراد ہو گا۔حالانکہ ہم نے لفظ زید بولا تھا جو جسم اور روح دونوں کا نام تھا مگر قرینہ حالیہ نے اس جگہ اس معنے کو روک دیا۔یا کہیں زید نیک ہے تو صرف روح مراد ہوگی۔اسی طرح رفع ہمیشہ روح کا ہوتا ہے۔اس خا کی جسم کے متعلق تو ازل سے یہی قانون الہی ہے قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف: ۲۶) لفظ رفع کی بحث دوم :۔ہم حضرت عیسی کے رفع کے قائل ہیں مگر وہ رفع تھا روحانی جو کہ جسم سے اعلیٰ ہے جس طرح کہ روح جسم سے اعلیٰ ہے۔جواب نمبر ۳:۔بندہ کے لئے جب لفظر فع استعمال ہو تو ہر جگہ درجات کا رفع مراد ہوتا ہے۔خصوصاً جب رفع اللہ تعالیٰ کی طرف ہو کیونکہ اس کی شان اعلیٰ ہے۔قرآنِ مجید اور لفظ رَفَعَ ا وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَوتِ وَ فِي الْأَرْضِ (الانعام: ۴) کہ وہ خدا آسمان میں بھی ہے اور زمین میں بھی۔۲ - أَيْنَمَا تُوَلَّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقرة: ۱۱۲) کہ جدھر تم منہ کر وادھر ہی اللہ ہے۔۔نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: ۱۷) کہ ہم انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔تو اس کی طرف رفع کے لئے آسمان پر جانا ضروری نہیں بلکہ وہ رفع اسی زمین پر ہوتے ہوئے ہو جاتا ہے۔چنانچہ سب مسلمان جانتے ہیں کہ آنحضرت بین السجدتین ( دو سجدوں کے درمیان ) جو دعا پڑھا کرتے تھے اس میں ایک لفظ وَار فَعُنِی بھی ہے۔یعنی اے اللہ میرا رفع کر۔(سنن ابن ماجه كتاب الجنائز باب اقامة الصلواة ما يقول بين السجدتين)